کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے؛ اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
سٹی 42 : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اہل کشمیر کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یومِ استحصَال کشمیر کے موقع پر ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارت گزشتہ 78 برسوں سے کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد اس نے ظلم و جبر، آبادیاتی تبدیلی، ذرائع ابلاغ پر قدغن ، اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری جیسے اقدامات سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔
ٹی ٹونٹی سیریز ؛پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی ڈبلن میں بھرپور پریکٹس
اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے, مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ پاکستان اہل کشمیر کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کشمیری بھائیوں کو ا ن کا جائز حق عطا فرمائے, آمین!
تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور جلسہ منسوخ کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ان کا حق نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔