پاکستان پاک ۔ یورپی اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے،صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
سبکدوش ہونے والی یورپی یونین وفد کی سربراہ، ڈاکٹر رینا کیونکا نے صدر آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر میں الوداعی ملاقات کی ہے جس کے دوران صدر مملکت نے کہا ہے کہ پاکستان پاک ۔ یورپی اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے کثیرالجہتی تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے مضبوط تعلقات خطے کے استحکام اور عالمی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داروں میں شامل ہے، ایراسمس منڈس اور ہورائزن یورپ پروگرام پاکستان کے نوجوانوں کے لیے قیمتی تعلیمی اور تحقیقی مواقع فراہم کرتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان پاک۔یورپی اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، تجارت، ماحولیات، ہجرت اور علاقائی امن جیسے مشترکہ اہداف پاک۔یورپی شراکت داری کو مزید تقویت دیں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر رینا کیونکا کی پاک۔یورپی تعلقات کے فروغ میں خدمات کو سراہا، صدر مملکت نے سبکدوش ہونے والی یورپی یونین وفد کی سربراہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی یونین صدر مملکت نے کہا کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔