اداکارہ در فشاں کا وزن زیادہ ہونے پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
معروف اداکارہ در فشاں سلیم نے حال ہی میں اپنے وزن اور شوبز انڈسٹری میں پیش آنے والے تجربات پر کھل کر بات کی ہے۔
در فشاں انڈسٹری میں اپنے منفرد انداز، جاندار اداکاری اور خوبصورتی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔
وہ دلربا، بھڑاس، کھائی، جیسا آپ کی مرضی، عشق مرشد، پردیس اور کئی دیگر مشہور ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔
ایک پوڈ کاسٹ میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ انڈسٹری میں ایک ’’اوور ویٹ‘‘ (موٹی) اداکارہ کے طور پر کام کرنا ان کے لیے کیسا رہا۔
جس پر اداکارہ کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے موٹاپے کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار نہیں رہیں۔ اس لیے نہ تو یہ مشکل تجربہ تھا اور نہ ہی سب سے آسان، مگر وہ پہلے دن سے اس بات پر قائم تھیں کہ وہ خود کو بدلے بغیر کام کریں گی۔
در فشاں کا مزید کہنا تھا کہ فٹ ہونے کا مطلب دبلا پتلا ہونا نہیں ہے، بلکہ صحت مند ہونا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ میں تسلیم کرتی ہوں کہ میرا جسمانی سانچہ قدرتی طور پر چوڑا ہے اور میں ہمیشہ ایسی ہی رہیں گی۔
در فشاں نے مزید کہا کہ وزن کا بار بار کم یا زیادہ ہونا نہ ممکن ہے اور نہ ہی وہ اسے اپنا لائف اسٹائل بنا سکتی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم