امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف ایک بار پھرسخت تجارتی اقدام کی دھمکی دے دی ۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میںصدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم پہلے ہی بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر چکے ہیں، مگر اب ہم اس میں نمایاں اضافہ کرنے جا رہے ہیں، جس کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوںمیں متوقع ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایک سال میں امریکہ میں درآمد ہونے والی ادویات کی قیمتیں 150 سے 250 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بیان ممکنہ طور پر بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیا گیا ہے، کیونکہ بھارت فارماسیوٹیکل اشیاء کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔
بھارتی برآمدی صنعت خطرے میں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ ٹیرف میں اضافے سے بھارت کی برآمدی صنعت خاص طور پر ٹیکسٹائل ، فارماسیوٹیکل ، آٹو پارٹس کوشدید نقصان پہنچ سکتا ہے،یہ وہ شعبے ہیں جو امریکی منڈی پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
 روس سے تیل خریداری پر سیاسی دباؤ

ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ تجارتی اقدام سیاسی دباؤ کا ایک حربہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد بھارت کو روس سے تیل کی خریداری محدود کرنےپر مجبور کرنا ہے۔ تاہم، بھارت پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ہم اپنی قومی ضروریات کے تحت آزادانہ فیصلے کرتے رہیں گے۔
عالمی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کی نظریں
اس صورتحال پر عالمی منڈیاں بین الاقوامی سرمایہ کاردونوں ممالک کے تجارتی حلقےبڑی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کا اثر نہ صرف دونوں معیشتوں بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سوشل ٹروتھ پر صدر ٹرمپ کا سخت بیان
یاد رہے کہ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر اپنے بیان میں بھارت پر الزام لگایا تھا کہ بھارت روس سے پیٹرول خرید کر اسے دیگر ممالک کو زائد منافع پر فروخت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاتھابھارت دراصل روس سے تیل خرید کر یوکرین جنگ میں روس کی بالواسطہ مدد کر رہا ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی