نادرا نے جانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کراچی:
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا)نےجانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنادیا اور ملک بھر میں قائم 186جانشینی سہولت مراکز میں درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
ترجمان نادرا کے مطابق پاکستانی شہریوں کےلیےجانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنا دیا ہے، وراثتی جائیداد کہیں بھی ہو درخواست اب ملک بھر میں متعلقہ نادرا مراکز پر جمع کرائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نادرا کے 186 جانشینی سہولت مرکز اب ہرصوبے کی درخواستیں وصول کریں گے، یہ مراکز اسلام آباد، سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں قائم ہیں۔
ترجمان نادرا نے بتایا کہ قانونی ورثا اپنی بائیومیٹرک تصدیق نادرا کےکسی بھی مرکز پر کراسکتے ہیں، بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر پہلے سے موجود ہے۔
اس سے قبل جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست اسی صوبےمیں جمع ہوتی تھی جہاں جائیداد واقع ہوا کرتی تھی، تاہم جانشینی سرٹیفکیٹ میں تبدیلی کے بعد نادرا ہیڈکوارٹرز نے تمام متعلقہ مراکز کو نئے طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان جانشینی سرٹیفکیٹ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔