ای سی سی نے الیکٹرک بائیکس، رکشو ں کیلئے 9 ارب روپے گرانٹ کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے الیکٹرک وہیکل سبسڈی، ریمٹنس سکیم کلیمز کی ادائیگی کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی ۔منگل کو( اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد اہم اقتصادی امور پر غور کیا گیا جن میں نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اجرا، قائداعظم یونیورسٹی کے لیے امدادی گرانٹ میں توسیع اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم سے متعلق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری شامل تھی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور دیگر متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایک سمری منظور کی گئی جس میں شہریوں کو الیکٹرک بائیکس اور رکشے/لوڈرز کی فراہمی کے لیے سبسڈی سکیم کا نفاذ تجویز کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس سکیم کے تحت سرکاری کالجوں کے نمایاں کارکردگی کے حامل طلبا کو مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے کے مطابق دو مراحل میں 1,16,000 الیکٹرک بائیکس اور 3,170 الیکٹرک رکشے/لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں جو وزیراعظم کی جانب سے جلد شروع کیا جائے گا، 40,000 الیکٹرک بائیکس اور 1,000 الیکٹرک رکشے/لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔ای سی سی نے وزارت خزانہ کی درخواست پر ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم کے تحت گزشتہ مالی سال کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دے دی۔ بقایاجات کی مجموعی رقم 58.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس گرانٹ کی ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔