اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے الیکٹرک وہیکل سبسڈی، ریمٹنس سکیم کلیمز کی ادائیگی کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی ۔منگل کو( اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد اہم اقتصادی امور پر غور کیا گیا جن میں نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اجرا، قائداعظم یونیورسٹی کے لیے امدادی گرانٹ میں توسیع اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم سے متعلق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری شامل تھی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور دیگر متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایک سمری منظور کی گئی جس میں شہریوں کو الیکٹرک بائیکس اور رکشے/لوڈرز کی فراہمی کے لیے سبسڈی سکیم کا نفاذ تجویز کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس سکیم کے تحت سرکاری کالجوں کے نمایاں کارکردگی کے حامل طلبا کو مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے کے مطابق دو مراحل میں 1,16,000 الیکٹرک بائیکس اور 3,170 الیکٹرک رکشے/لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں جو وزیراعظم کی جانب سے جلد شروع کیا جائے گا، 40,000 الیکٹرک بائیکس اور 1,000 الیکٹرک رکشے/لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔ای سی سی نے وزارت خزانہ کی درخواست پر ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم کے تحت گزشتہ مالی سال کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دے دی۔ بقایاجات کی مجموعی رقم 58.

26 ارب روپے ہے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ ادائیگی کے طریقہ کار پر فوری کام کرے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ اس سکیم کے فوائد و نقصانات، مالیاتی پہلوئوں اور مواقع کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لے کر سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سفارشات ستمبر کے وسط تک پیش کی جائیں جبکہ ابتدائی رپورٹ اگست کے آخر تک مکمل کی جائے۔علاوہ ازیں ای سی سی نے قائداعظم یونیورسٹی کے لیے 2 ارب روپے کی بیل آئوٹ گرانٹ کی اصولی منظوری بھی دے دی تاہم اس شرط کے ساتھ کہ یونیورسٹی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے مالیاتی خود انحصاری کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرے اور مستقبل میں بیل آئوٹ گرانٹس پر انحصار کم کرنے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس گرانٹ کی ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم