نمبر پلیٹ کا ٹھیکہ 55 کروڑ کا تھا وہ اب 6 ارب روپے کا ہوگیا،خواجہ اظہار الحسن
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ثقافت کو قانون اور جغرافیہ میں قید کریں گے تو مخالفت ابھرے گی، یہ پیسہ کراچی والوں کی جیب سے نکلنا ظلم ہے
سندھ حکومت نے غلطی کی ہے ثقافت کو نمبر پلیٹ پر لا کر اس کا تماشہ بنایا ہے،رہنما ایم کیو ایم کی نجی ٹی وی سے گفتگو
رہنما متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ نمبر پلیٹ کا جو ٹھیکہ 2014 میں 55 کروڑ کا تھا وہ اب 6 ارب روپے کا ہوگیا۔انہوں نینجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ثقافت کو قانون اور جغرافیہ میں قید کریں گے تو مخالفت ابھرے گی، سندھ حکومت نے غلطی کی ہے کہ ثقافت کو نمبر پلیٹ پر لا کر اس کا تماشہ بنایا ہے، نمبر پلیٹ کا ٹھیکہ 6 ارب کا ہوگیا یہ پیسہ کراچی والوں کی جیب سے جا رہا ہے جو ظلم ہے۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل دیہی و شہری تفریق کو مزید بڑھا رہا ہے، اس کے باعث احساس محرومی نفرت میں بدل رہی ہے، اس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ملوث ہیں۔رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ ہم نے جعلی ڈومیسائل معاملے پر نیب سے بھی رابطہ کیا ہے کہ وطن کی شناخت بیچنے والے افسران کو برطرف کیا جائے، جعلی ڈومیسائل جاری کرنے والوں سے جرمانے کی صورت میں ریکوری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے منصوبے صرف ورلڈ بینک اور کلک پراجیکٹ سے چل رہے ہیں سندھ حکومت صرف فیتہ کاٹنے تک محدود ہے، سائیں سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ اپوزیشن کو شامل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، ہمارے ایم این ایز کے اربوں کے فنڈز ٹینڈر نہ ہونے سے ضائع ہو رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا 27ویں ترمیم کا معاہدہ مسلم لیگ (ن) سے ہوا ہے، اس کے آڑے پی پی کی مطلق العنان سوچ ہے، پیپلز پارٹی سندھ میں وڈیرانہ تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے، وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کرنا چاہتی، وہ ایک سو چالیس اے کو آئینی تحفظ دینا نہیں چاہتی۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ آنے والے دنوں میں لگتا ہے پارلیمان میں (ن) لیگ کے ساتھ سادہ اکثریت ہوگی، دو تہائی اکثریت سے 27ویں ترمیم کی منظوری کی کوشش کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خواجہ اظہار الحسن ایم کیو ایم نمبر پلیٹ نے کہا کہ ثقافت کو ایم کی
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔