بالی ووڈ اداکار ایم ایم فاروقی عرف للی پٹ نے شاہ رخ خان کی 2018 کی فلم زیرو میں بطور بونے شخص کی اداکاری پر تنقید کی ہے، اور اس کا موازنہ کمال ہاسن کی فلم اپّو راجا میں ان کی اداکاری سے کیا ہے۔

بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کی فلم زیرو، جس میں انہوں نے ایک بونے شخص کا کردار ادا کیا، باکس آفس پر ناکام رہی اور ناظرین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی۔ فلم کی ناکامی کے بعد، شاہ رخ نے اداکاری سے کچھ عرصے کے لیے وقفہ لے لیا تھا۔

 اب ایک انٹرویو میں اداکار للی پٹ نے کہا کہ شاہ رخ خان نے زیرو میں کمال ہاسن کی نقل کرنے کی کوشش کی، انہوں نے شاہ رخ خان کی اداکاری پر تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ خان کس اسٹار کو خود بھی بڑا اداکار سمجھتے ہیں؟

للی پٹ نے کہا کہ جیسے ایک نارمل انسان اندھے شخص کی صرف اداکاری کر سکتا ہے، ویسے ہی ایک عام قد والا اداکار بونے کی اصل کیفیت کو درست طریقے سے نہیں دکھا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بونے بھی عام لوگوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی حرکات، جذبات، اور خیالات نارمل ہوتے ہیں فرق صرف جسمانی ساخت میں ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا آپ اس رول کو کیسے ادا کریں گے؟ آپ صرف ٹیکنیکل طریقے سے اسے چھوٹا دکھا دیں گے۔ ہمیں پتہ ہے کہ آپ خوبصورت اور کیوٹ ہیں، تو ہماری آپ کے بارے میں سوچ وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ ہم ایک بونے کو نہیں دیکھ رہے، ہم ایک ہیرو کو دیکھ رہے ہیں جسے ٹیکنالوجی کے ذریعے چھوٹا بنایا گیا ہے۔ اور آپ کی فلم کی کہانی کہنا کیا چاہتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: 33 سال بعد، شاہ رخ خان پہلی بار قومی فلم ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب

للی پٹ نے شاہ رخ خان پر کمل ہاسن کی نقل کرنے کا الزام لگایا اور کہا آپ اپّو راجا کی ذہانت دیکھیں۔ کمال ہاسن نے اصل انداز میں اداکاری کی، اور بونے شخص کی جسمانی حرکات و سکنات کو بھی غور سے اپنایا۔ بونوں کے ہاتھ چھوٹے، کچھ موٹے، بازو، چہرہ اور پاؤں مختلف ہوتے ہیں۔ تو جب آپ تاثر چھوڑنے میں ناکام ہیں، تو آپ یہ بنا کیوں رہے ہو؟ اور آپ کو یہ کیسے لگا کہ آپ تاثر چھوڑ پائیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ کمال جی کی آپ نقل کر رہے ہو۔ ان کی اداکاری کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہو آپ۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب شاہ رخ خان کو حال ہی میں 2023 کی فلم جوان میں اداکاری پر نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین اداکار ملا ہے جبکہ دوسری طرف، کمال ہاسن یہ ایوارڈ اپنی زندگی میں تین بار جیت چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علم ہی نہیں تھا کہ شاہ رخ خان کے ساتھ پرفارم کرنا ہے، ہمایوں سعید نے یادگار واقعہ سنا دیا

واضح رہے کہ آنند ایل رائے کی ہدایت کاری میں بنی رومانوی فلم زیرو میں شاہ رخ خان، انوشکا شرما اور کترینہ کیف نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ کہانی بوعا سنگھ نامی ایک بونے شخص کے گرد گھومتی ہے جو میرٹھ سے ہے اور خود شناسی و محبت کی تلاش میں نکلتا ہے۔ فلم میں انوشکا نے ایک دماغی معذوری کی مریضہ سائنسدان کا کردار ادا کیا، جبکہ کترینہ کیف نے ایک ذہنی پریشان اداکارہ کا کردار نبھایا۔

200 کروڑ کے بجٹ میں بنی یہ فلم عالمی سطح پر صرف 178 کروڑ کما پائی، اور باکس آفس پر ناکامی سے دوچار ہوئی۔ دوسری جانب کمال ہاسن کی 1989 کی فلم اپّو راجا دو جڑواں بھائیوں راجو اور اپّو پر مبنی ہے، جو بچپن میں جدا ہو جاتے ہیں، اور اپّو اپنے والد کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر بہت بڑی کامیابی تھی، 200 دن تک سنیما گھروں میں چلی، اور اس وقت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی تمل فلم بنی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ شاہ رخ خان فلم زیرو کمل ہاسن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ شاہ رخ خان فلم زیرو کمل ہاسن کی اداکاری شاہ رخ خان کمال ہاسن فلم زیرو بالی ووڈ ہاسن کی کی فلم

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی