قیمتی پتھروں اور زیورات کا شعبہ برآمداتی حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، وزیر تجارت
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
قیمتی پتھروں اور زیورات کے شعبے سے متعلق ایک اہم اجلاس وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں شعبے کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور بین الاقوامی منڈیوں میں رسائی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غیر روایتی برآمدات کے فروغ کیلئے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور قیمتی پتھروں و زیورات کا شعبہ اس برآمداتی حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت تجارت اس شعبے کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
جام کمال خان نے کہا کہ وزارت کی جانب سے مرتب کی جانے والی سفارشات جلد وزیراعظم آفس کو ارسال کی جائیں گی تاکہ پالیسی سطح پر درکار اقدامات کو بروقت یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ایس آر او 760 کی بحالی اور ایس آر او 924 سے ممکنہ استثنیٰ پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر تجارت نے ہدایت دی کہ اس شعبے کو بین الاقوامی بزنس فورمز میں بھرپور نمائندگی دی جائے، خصوصاً فرانس، بنگلہ دیش اور ایتھوپیا میں ہونے والے فورمز میں شرکت یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری و نجی شعبے کا اشتراکِ عمل قیمتی پتھروں کی صنعت کو نئی جہت فراہم کرے گا، اور حکومت اس شعبے کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دیہی ہنر مندوں اور خواتین کی اقتصادی شمولیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور زیورات کے شعبے میں ان کی شرکت اس صنعت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قیمتی پتھروں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔