لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ماہانہ صفائی فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رہائشی علاقوں میں فیس 200 روپے جبکہ کمرشل علاقوں میں زیادہ سے زیادہ فیس 5000 روپے ہوگی۔

نجی ٹی وی کے مطابق محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں مختلف فیسیں ہوں گی۔ رہائشی علاقوں میں فیس کم ہوگی جبکہ کمرشل علاقوں میں فیس زیادہ ہوگی۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بلنگ کے عمل کو ڈیجیٹل کیا جائے گا تاہم ابتدائی طور پر 2 ماہ کا بل پرنٹ کرکے دیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ شہری آن لائن درخواست کے ذریعے فیس ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کے نگران ان لوگوں سے فیس لیں گے جو آن لائن ایپ استعمال نہیں کرتے۔ صاف پنجاب مہم 8 ماہ سے جاری ہے جس کے تحت کوئی فیس نہیں لی گئی۔

ترجمان نے کہا کہ اب پنجاب حکومت نے صفائی کی فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے سال ہمارا ہدف 15 ارب اکٹھا کرنا ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علاقوں میں نے کہا

پڑھیں:

پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے

ویب ڈیسک : پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پی ای آئی ایم اے) کی جانب سے مختلف شعبوں میں تجربہ کار اور قابل پیشہ ور افراد کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر 31 اہم اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے درکار تعلیمی قابلیت اور درخواست دینے کا طریقہ کار بھی سامنے آگیا ۔ 

پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ایڈمنسٹریشن، فنانس، تعلیم، آئی ٹی اور ریسرچ سمیت مختلف محکموں میں عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ان ملازمتوں کے لیے ماہانہ تنخواہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہیں۔

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

ہیومن ریسورس اینڈ ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرام، پارٹنرشپ اینڈ کولیبریشن، اکیڈمکس اینڈ ریسرچ، اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کے شعبوں کے لیے ڈائریکٹرز مطلوب ہیں۔ ان عہدوں کے لیے عمر کی حد 35 سے 55 سال، کم از کم 16 سالہ تعلیم اور 10 سال کا متعلقہ تجربہ لازمی ہے اور ماہانہ تنخواہ 7,50,000 روپے تک ہوگی۔ 

چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ، اور ڈیٹا انجینئر کی ایک ایک اسامی خالی ہے، چیف آڈٹ آفیسر کے لیے عمر کی حد 30 سے 45 سال جبکہ ڈیٹا اینالسٹ اور انجینئر کے لیے 28 سے 45 سال ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ اور مانیٹرنگ سمیت دیگر شعبوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں ، جن کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے ہے۔ تاہم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ ہوگی۔ ان کے لیے 16 سالہ تعلیم اور 3 سال کا تجربہ درکار ہے۔

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

پیمانے کے تحت 7 اسسٹنٹ اور 2 اسسٹنٹ آئی ٹی کی اسامیاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں، جن کے لیے کم از کم 1 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔

درکار تعلیمی قابلیت
امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ اداروں کی ڈگریاں ہونی چاہئیں، جن میں مطلوبہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس اینڈ اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، ڈیٹا سائنس، کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

درخواست دینے کا طریقہ کار
خواہش مند امیدوار پنجاب حکومت کے آفیشل جاب پورٹل jobs.punjab.gov.pk پر جا کر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، بذریعہ ڈاک، ای میل، کوریئر سے جمع کروائی جانے والی درخواستیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

پہلے سے سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے امیدواروں کو اپنے محکمے کے توسط سے اپلائی کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر این او سی فراہم کرنا ہوگا۔

: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر سسٹم بند، ٹیکس دہندگان کے لیے اہم ہدایت جاری
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی