صدر آصف علی زرداری کا میجر طفیل محمد شہید کو خراجِ عقیدت، قربانی کو قوم کے لیے مشعلِ راہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کی 67 ویں برسی پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 67 برس قبل شہید نے دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے مادرِ وطن پر اپنی جان قربان کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہید کی قربانی اور بہادری کو سلام پیش کرتی ہے اور پاکستان آج ان عظیم سپوتوں کی بدولت محفوظ ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ہم اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، میجر طفیل محمد شہید کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے اور قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے جو دشمن کا ہر محاذ پر دلیری سے مقابلہ کر رہی ہیں۔
Ask ChatGPT
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔