اسلام آباد:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے ہیرو میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کو ان کے 67 ویں یومِ شہادت پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اپنے الگ الگ پیغامات میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ آج سے 67 برس قبل میجر طفیل محمد نے دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے مادرِ وطن پر اپنی جان قربان کی۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ پوری قوم میجر طفیل محمد شہید کی قربانی اور بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔ پاکستان آج ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کی بدولت محفوظ ہے اور ہم اپنے تمام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

انہوں نے کہا کہ میجر طفیل محمد شہید کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ہم اپنے شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے جو دشمن کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک کی حفاظت جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میجر طفیل محمد شہید کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان