خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی خارج از امکان نہیں، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
نون لیگ کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ مناسب وقت پر اکثریت ثابت کر کے دکھائیں گے، 53 اراکین اسمبلی کی صورت میں مضبوط اپوزیشن اتحاد خیبر پختونخوا میں پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی خارج از امکان نہیں، مناسب وقت پر اکثریت ثابت کر کے دکھائیں گے، 53 اراکین اسمبلی کی صورت میں مضبوط اپوزیشن اتحاد خیبر پختونخوا میں پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارِ انہوں نے صوابی میں نون لیگ خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری حاجی دلدار خان کی رہائش گاہ پر ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد کیا۔ امیر مقام نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی لیڈر شپ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی ایسا نہیں چاہتی، عمران نیازی کے خلاف عدالت میں کیسز ہیں، وہ ان کا سامنا عدالت میں کریں۔
انہوں ںے کہا کہ 9 مئی کے مقدمات کے فیصلوں سے نون لیگ کا کوئی لینا دینا نہیں، قومی مفادات کیلئے مل بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے پی ٹی آئی کا احتجاج کرنا مناسب نہیں تھا، قوم نے ان کو مسترد کر دیا ہے، اب 14 اگست جشن آزادی پر احتجاج کی کال بھی ملک دشمنی ہے۔ امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دستیاب لیڈر شپ بھارت و اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے یوم آزادی پر ملک میں افراتفری کرنا چاہتی ہے، مسلم لیگ کی مرکزی حکومت اس دفعہ یوم آزادی شایانِ شان طریقے سے منا کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہارِ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ مسلم لیگ کو وطن دوستی پر ووٹ دیا ہے، آئندہ بھی ملک میں حکومت سبز جھنڈے کی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔