آذربائیجان اور آرمینیا نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے، ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
مسیحی اکثریتی آرمینیا اور مسلم اکثریتی آذربائیجان نے کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد پائیدار امن کے قیام پر اتفاق کرلیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والے تاریخی دستخطی تقریب میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ٹرمپ کی ثالثی کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دی۔
تقریب میں آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے معاہدے پر دستخط کیے، جسے وائٹ ہاؤس نے “مشترکہ اعلامیہ” قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ کے لیے لڑائی ختم کرنے، تجارت، سفر اور سفارتی تعلقات بحال کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عزم کیا ہے۔
صدر علی یوف نے اسے “تاریخی دستخط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3 دہائیوں سے زیادہ عرصہ جنگ میں رہنے والے 2 ممالک آج امن قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاشینیان کے ساتھ مل کر نوبیل کمیٹی کو خط لکھنے کا اعلان کیا، جس میں ٹرمپ کے لیے امن انعام کی سفارش کی جائے گی۔ علی یوف نے امریکی فوجی تعاون پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کے لیے نوبیل کمیٹی کو خط بھیج دیا
وزیر اعظم پاشینیان نے کہا کہ یہ پیشرفت کئی دہائیوں کے تنازع کو ختم کرنے اور ایک نئے دور کے آغاز کی راہ ہموار کرے گی، اور یہ “پرامن ماحول” ٹرمپ کی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔
معاہدے کے تحت آرمینیا میں ایک ٹرانزٹ کوریڈور قائم کیا جائے گا، جو آذربائیجان کو اس کے نخشوان کے علاقے سے جوڑے گا۔ امریکا کو اس راہداری جسے “ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپرٹی” (TRIPP) کا نام دیا گیا ہے میں ترقیاتی حقوق حاصل ہوں گے۔ ترکی نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے اسے قفقاز میں پائیدار امن کے قیام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
یاد رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان بنیادی تنازع پہاڑی علاقے نگورنو کاراباخ پر ہے، جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد قریباً 3 دہائیوں تک آرمینی حامی علیحدگی پسندوں کے زیرِ کنٹرول رہا۔ آذربائیجان نے 2020 میں اس کا کچھ حصہ اور 2023 کی فوجی کارروائی میں مکمل علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا، جس کے بعد ایک لاکھ سے زائد آرمینی شہری وہاں سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آذربائیجان آرمینیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن معاہدہ ٹرمپ نوبیل امن انعام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرمینیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن معاہدہ ٹرمپ نوبیل امن انعام نوبیل امن انعام کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔