لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ، ایف سی اہلکار بیوی سمیت شہید
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
لکی مروت (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی اہلکار معراج الدین اور ان کی اہلیہ شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ تتہ باشی خیل کے علاقے میں پیش آیا۔ معراج الدین اپنی بیوی کے ساتھ رکشے میں تترخیل سے گاؤں تتہ باشی خیل جا رہے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ بتایا گیا ہے کہ معراج الدین بلوچستان میں بطور کلرک فرائض انجام دے رہے تھے۔
یہ واقعہ اس علاقے میں پیش آنے والا پہلا حملہ نہیں۔ اس سے قبل لکی مروت کے خیروخیل پکہ کے قریب بھی دہشت گردوں کی فائرنگ میں دو پولیس اہلکار، حکمت اللہ اور خان بہادر، شہید ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق دونوں اہلکار ڈاک ڈیوٹی پر تھے اور موٹرسائیکل پر ڈاک لینے مختلف تھانوں جا رہے تھے۔ حکمت اللہ تھانہ پیزو جبکہ خان بہادر تھانہ شہباز خیل میں تعینات تھے۔ حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
علاقے میں ان واقعات کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کی لکی مروت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔