بنوں میں ایف سی چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملہ(ایک اہلکار شہید، 3 زخمی)
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
پاک فوج اور پولیس کا خوارج کیخلاف مشترکہ آپریشن،ہوید کا محاصرہ کرکے کئی افرادزیرحراست
دو مقامی سہولت کاروں کے گھر مسمار ، تاحکم ثانی کرفیو نافذ، عوام کو گھروں سے باہرنہ نکلنے کا حکم
بنوں میں فرینٹر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر ڈرون حملے میں ایک اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ڈی پی او بنوں سلیم عباس کلاچی کے مطابق بکا خیل کے علاقے تختی خیل میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملہ کیا گیا، حملے میں ایک ایف سی اہلکار شہید اور 3 زخمی ہو گئے۔ڈی پی او سلیم عباس کلاچی کا کہنا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔بنوں میں پاک فوج اور پولیس نے خوارج کے خلاف مشترکہ آپریشن میں علاقے ہوید کا محاصرہ کرکے کئی افراد کو حراست میں لے لیا اور دو مقامی سہولت کاروں کے گھر مسمار کردیے۔ واقعہ کے بعد فرینٹر کور اور پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ڈی پی او سلیم عباس کلاچی کا کہنا ہے کہ ہوید میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے باعث تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، ہوید میں دہشتگردوں کی موجودگی پر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن ہورہا ہے۔ان کا بتانا ہے کہ آپریشن کے لیے بھاری نفری علاقے میں پہنچا دی گئی ہے، ہوید میں صبح 5 بجے کے بعد عوام کو گھروں سے باہرنہ نکلنے کا کہا ہے، شہری کسی بھی مشتبہ فرد کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ڈی پی او بنوں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کو پناہ دینے یا مدد کرنے پرسخت قانونی کارروائی ہو گی، جہاں بھی فورسز پر فائرنگ ہو گی وہ عمارت گرا دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔