اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اگست 2025ء) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پالانٹیر نے جرمن پولیس کے زیر استعمال اپنے سکیورٹی سافٹ ویئرکومکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پالانٹیر کے ترجمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ پالانٹیر کا سافٹ ویئر گوتھم (Gotham) انٹرنیٹ یا بیرونی سرورز سے منسلک نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ جرمن پولیس کو ڈیٹا پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

واضح رہے کہ یہ سافٹ ویئر جرمن ریاستوں باویریا، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور ہیسے میں استعمال ہو رہا ہے، جہاں پولیس مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے رابطوں، پیٹرنز اور ممکنہ خطرات کی شناخت کرتی ہے۔

جرمن وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرینٹ اس وقت جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس سافٹ ویئر کو ملک گیر سطح پر نافذ کیا جانا چاہیے؟ فی الحال، یہ سافٹ ویئر صرف جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ ان کی تحقیقات کے لیے۔

(جاری ہے)

ایسی صورت میں متعلقہ ریاستی قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ تنقید اور خدشات

پالانٹیر کے سافٹ ویئر پر ڈیٹا پرائیویسی کے حامیوں نے شدید تنقید کی ہے، خاص طور پر اس کی نگرانی کی صلاحیتوں پر۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر میں کسی معاملے کے گواہوں اور عام شہریوں کے بارے میں بھی معلومات موجود ہوتی ہے، جو کسی جرم میں ملوث نہیں ہوتے۔

اس سے شہری آزادیوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

مزید برآں، ناقدین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پالانٹیر امریکی کمپنی ہونے کے ناطے پولیس کا حساس ڈیٹا امریکی خفیہ ایجنسیوں کو فراہم کر سکتی ہے۔ اس تنقید کو پالانٹیر کے بانی پیٹر تھیل کی سیاسی وابستگیوں، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت، سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

پالانٹیر کے ترجمان کا مؤقف

پالانٹیر کے ترجمان نے کہا کہ جرمنی میں جاری یہ بحث اکثر نامکمل یا غلط مفروضوں پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم سے لے کر منظم جرائم اور مبینہ دہشت گردی تک کےخطرات سے نمٹنے کے لیے یہ سافٹ ویئر سکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر طریقے سے مدد کرتا ہے۔ ان کے بقول،’’اگر خطرات کا بروقت پتہ نہ چلایا جائے اور انہیں روکا نہ جائے، حالانکہ یہ محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے، تو کیا یہ مدد فراہم کرنے میں ناکامی کے مترادف نہیں ہوگا؟‘‘

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سافٹ ویئر

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا