چُپ کی عمر: دیہی خواتین اور سن یاس کے گرد پھیلی خاموشی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
تعارف: سن یاس کیا ہے؟
سن یاس (Menopause) عورت کی زندگی میں وہ قدرتی مرحلہ ہے جب ماہواری مستقل طور پر بند ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی جسم میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز کی سطح گرنے لگتی ہے۔
عام طور پر یہ 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے، مگر پاکستان کے دیہی علاقوں میں غذائی قلت، سخت مشقت اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث یہ 40 سال سے بھی پہلے شروع ہوسکتا ہے۔
سن یاس صرف ایک حیض کا رک جانا نہیں، بلکہ عورت کے جسم، ذہن اور زندگی کی ترتیب کا بدل جانا بھی ہے۔ اس میں ہڈیوں کی کمزوری، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، نیند کی خرابی اور مزاج میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی دیہی خواتین کے لیے یہ مرحلہ ایک مکمل ’خاموش بیماری‘ بن جاتا ہے ، جس پر نہ بات کی جاتی ہے، نہ مدد دی جاتی ہے، نہ مریض کو سُنا جاتا ہے۔
یہ فیچر انہی عورتوں کی کہانی ہے، جن کی خاموشی، ان کی سب سے بڑی چیخ ہے۔
دیہی پس منظر: سن یاس کو بدشگونی کیوں سمجھا جاتا ہے؟دیہی پاکستان میں ’سن یاس‘ کو نہ تو ایک فطری عمل کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر بات کرنا مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ عورتوں کے لیے یہ وقت اکثر شرمندگی، سکوت اور ’بیکار‘ ہو جانے کے احساس کا آغاز بن جاتا ہے۔ اکثر خواتین کہتی ہیں: ’اب تو عمر ہی ڈھل گئی ہے، بس اللہ اللہ کرو۔‘
خاموشی کی قیمت: سن یاس سے جڑی بیماریاں اور خطراتسن یاس کے ساتھ کئی جسمانی و ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں، جنہیں دیہی خواتین اکثر بیماری نہیں سمجھتیں، مثلاً:
ہڈیوں کا بھر بھرا پن (Osteoporosis): معمولی جھٹکوں سے بھی فریکچر ہو جاتا ہے۔
دل کی بیماریاں (Cardiovascular Diseases): دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔
نیند کی کمی (Insomnia)
موڈ کی بے ترتیبی (Mood Swings / Depression)
اندام نہانی کی خشکی (Vaginal Dryness)
ذہنی دھند (Brain Fog)
پاکستان کے ایسے علاقے جہاں گرمی کی شدت 50 ڈگری تک جا پہنچتی ہے، خواتین سن یاس کے دوران بھی کھیتوں میں کام، لکڑیاں جمع کرنے، یا پانی بھرنے جیسے کام کرتی ہیں۔ سن یاس کی علامات، جیسے تھکن، پسینہ آنا، اور جسمانی درد، شدید گرمی اور مشقت سے اور بڑھ جاتی ہیں۔
اعداد و شمار: خاموشی میں چھپی حقیقتپاکستان میں عورتوں میں سن یاس کی اوسط عمر 45 سے 50 سال کے درمیان ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ عمل 40 سال سے پہلے بھی شروع ہو سکتا ہے۔
قومی ادارۂ صحت کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، 60 فیصد خواتین سن یاس کی علامات کو صرف بڑھاپا سمجھتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک فیلڈ اسٹڈی کے مطابق، جنوبی پنجاب میں 80 فیصد دیہی خواتین نے کبھی سن یاس کے بارے میں کسی پروگرام سے معلومات حاصل نہیں کیں۔
پاکستان اوسٹیوپوروسز فاؤنڈیشن کے مطابق، ہر 3 میں سے ایک خاتون ہڈیوں کی بیماری میں مبتلا ہوتی ہے، مگر صرف 10 فیصد ہی علاج کرواتی ہیں۔
خواتین کی کہانیاں: ’ہم نے تو کبھی کسی سے پوچھا ہی نہیں‘روبینہ بی بی، 55 سالہ خاتون، کہتی ہیں: ’جب رات کو پسینے سے شرابور ہو جاتی ہوں تو لگتا ہے کوئی بیماری ہے، لیکن ڈاکٹر نے کہا یہ تو عمر کا عمل ہے۔ میں نے تو کبھی کسی سے نہیں پوچھا، شرم آتی تھی۔‘
مردوں کی لاتعلقی: ازدواجی تعلقات پر اثراتسن یاس کے بعد کئی خواتین شکایت کرتی ہیں کہ شوہر بدظن ہو جاتے ہیں، دوری اختیار کرتے ہیں یا دوسری شادی کے اشارے دیتے ہیں۔ ازدواجی قربت میں مشکلات، جذباتی تناؤ، اور جنسی تعلقات کی خرابی خواتین کی خوداعتمادی کو متاثر کرتی ہے۔
ڈاکٹر نصرت کہتی ہیں: ’دیہی خواتین میں ڈپریشن کی شرح زیادہ ہے، لیکن وہ اسے بیماری نہیں سمجھتیں وہ کہتی ہیں: دل گھبراتا ہے، کچھ اچھا نہیں لگتا۔‘
مذہبی سوچ: جب خاموشی کو عبادت بنا دیا جائےبہت سی خواتین سن یاس کے بعد صرف ’عبادت کی عمر‘ سمجھ کر دنیاوی معاملات سے الگ کر دی جاتی ہیں۔ بعض علماء کی رائے میں عورت کو اس مرحلے میں بھی جسمانی صحت کا خیال رکھنا عبادت کا ہی حصہ ہے۔
روبینہ بی بی کہتی ہیں کہ ’جسم نے جب ساتھ چھوڑا، تب رب سے دل لگا لیا۔ پہلے وقت نہیں تھا، اب تسبیح اور دعا سکون دیتی ہے۔‘
نظامِ صحت میں خلا: جب BHU میں جواب نہ ملےدیہی علاقوں میں زیادہ تر لیڈی ہیلتھ ورکرز سن یاس پر تربیت یافتہ نہیں۔
فرزانہ کلیم، فیلڈ نرس، کہتی ہیں: ’ہم نے زچگی اور حمل پر تربیت لی ہے، لیکن سن یاس پر کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی۔‘
بیٹیوں کی لاعلمی: نسل در نسل خاموشیزیادہ تر مائیں اپنی بیٹیوں سے ان تبدیلیوں پر بات نہیں کرتیں۔ کچھ خواتین ایف ایم ریڈیو یا موبائل پر ایسے پروگرام سن رہی ہیں جو انہیں سن یاس کی حقیقت سے روشناس کر رہے ہیں۔
مسرت بی بی کہتی ہیں: ’ایک دن ریڈیو پر پروگرام میں ڈاکٹر نے کہا کہ یہ عمر بیماری نہیں، تبدیلی ہے بس وہ دن میری سمجھ کو بدل گیا۔‘
مالی تحفظ کا فقدان: جب کام رک جائے، مگر اخراجات نہیںسن یاس کے بعد خواتین اکثر کھیتوں، سلائی یا دیگر کام چھوڑ دیتی ہیں، مگر ان کے پاس نہ پینشن ہے، نہ سہارے۔ 58 سالہ زرینہ بی بی کہتی ہیں کہ ’اب نہ میں جوڑوں کے درد کی وجہ سے سلائی کر سکتی ہوں، نہ کوئی کام دیتا ہے۔ بچوں کو بھی وقت نہیں دے پاتی۔‘
یہ صرف آمدن کا نقصان نہیں، بلکہ بیماریوں کا خرچ بھی ہے:اوسٹیوپوروسس کے مہنگے سپلیمنٹس، دل کی دوائیں اور بلڈ پریشر کا کنٹرول، ہارمون تھراپی جیسی سہولتوں کی کمی، ڈاکٹر تک رسائی کا کرایہ اور وقت یہ سب کچھ ان خواتین پر بوجھ بنتا ہے جو پہلے ہی اپنی معیشت سے باہر ہو چکی ہوتی ہیں۔
جعلی علاج اور خوددرمانی: نقصان دہ رجحاناتبعض دیہی علاقوں میں ’خواتین کے خاص نسخے‘ یا ’سن یاس کی دوائیں‘ کے نام پر جعلی حکیم خواتین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اکثر خواتین دم درود، جلاب یا غیر سائنسی ادویات پر انحصار کرتی ہیں، جو مزید نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
کچھ خواتین جسمانی درد یا نیند کی کمی سے نجات کے لیے خود ہی دوا لینا شروع کر دیتی ہیں، جیسے پین کلرز، نیند کی گولیاں یا نشہ آور ٹوٹکے۔ مگر اکثر یہ علاج جسمانی طور پر نقصان دہ ہوتے ہیں، اور اصل بیماری کو چھپا دیتے ہیں۔
ماہرین کی رائےگائنا کالوجسٹ ڈاکٹر نسرین جاوید بتاتی ہیں کہ ’خواتین سن یاس کو چھپاتی ہیں، اور جب آتی ہیں تو علامات بگڑ چکی ہوتی ہیں۔ اگر بروقت آگاہی، خوراک، ورزش اور مشورہ دیا جائے تو یہ مرحلہ باعزت اور آسان ہو سکتا ہے۔یہ صرف حیض کا اختتام نہیں، پورے جسم کا ہارمونی نظام بدلتا ہے۔ عورت کو جسمانی اور ذہنی دونوں مدد کی ضرورت ہے، مگر ہماری پالیسی میں یہ مرحلہ کہیں بھی نہیں آتا۔‘
ڈاکٹر علیمہ رفیق ماہر نفسیات کہتی ہیں: ’سن یاس کے ساتھ تنہائی، ڈپریشن، اور خود سے نفرت جیسے احساسات آتے ہیں۔ ہر BHU میں ایک ہیلپ کارنر ہونا چاہیے جہاں عورت بول سکے ، یہ اس کی جذباتی بقا کے لیے ضروری ہے۔‘
نتیجہ: یہ عمر کا اختتام نہیں، ایک نئی شروعات ہے۔پاکستان کی دیہی خواتین کے لیے ’سن یاس‘ صرف حیض کا اختتام نہیں، بلکہ ایک مکمل زندگی کی خاموشی کا آغاز بن جاتا ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہونا چاہیے۔ سن یاس کو اگر سمجھا جائے، سنا جائے، اور عزت دی جائے تو یہ ایک عورت کے اندر نئی خودی، نئی پہچان، اور نئی آواز کی شروعات بن سکتا ہے۔
اب وقت ہے کہ:
ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی جائے۔
خواتین کے لیے آگاہی پروگرامز ہوں۔
بیٹیوں کو سکھایا جائے کہ وہ ماؤں سے سن یاس پر بات کر سکیں۔
اور سب سے اہم خاموشی توڑی جائےکیونکہ جب عورت چپ ہو جائے، تو صرف آواز نہیں مرتی۔
پورا علم، پورا تجربہ، اور پورا احساس مٹی میں دفن ہو جاتا ہے۔سن یاس عورت کی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نیا موڑ ہے، جہاں جسمانی تبدیلی کے ساتھ ایک اندرونی خودی بیدار ہوتی ہے۔ مگر ہمارے دیہی معاشرے میں اسے کمزوری، خاموشی اور شرمندگی کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ خاموشی صرف ایک عورت کی صحت نہیں چھینتی، بلکہ اس کی خود اعتمادی، شناخت اور زندگی کا حق بھی دھندلا دیتی ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں، اور سن یاس کو ایک باوقار انسانی حقیقت کے طور پر قبول کریں جہاں ہر عورت کو طبی سہارا، جذباتی حمایت، معاشی تحفظ اور سب سے بڑھ کر اپنی کہانی سنانے کا حق حاصل ہو۔ کیونکہ سن یاس محض حیض کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ عمر ہے جہاں عورت برسوں کے تجربے، فہم اور وقار کے ساتھ اپنی مکمل پہچان کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔ یہ چپ کی عمر نہیں یہ خودی کی عمر ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دیہی علاقوں میں کا اختتام نہیں خواتین سن یاس دیہی خواتین خواتین کے سن یاس کو سن یاس کے سن یاس کی کہتی ہیں نیند کی جاتا ہے کے ساتھ ہیں کہ کے لیے حیض کا کی عمر کی کمی
پڑھیں:
اسلامی اقدار اور جدید دور
آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔