کراچی: سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کا قتل: خواتین سمیت 4 مشتبہ افراد زیرحراست
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ سے قتل ہونے والے خواجہ شمس اسلام ایڈووکیٹ کے کیس میں پولیس نے خواتین سمیت 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
زیرحراست افراد میں مرکزی ملزم کے قریبی رشتے دار اور خواتین بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزم عمران آفریدی کے قریبی ساتھی کو کے پی کے سےحراست میں لیا گیا ہے۔ سہولت کار ملزم حسن، عمران آفریدی کو اپنی کار میں کے پی کے لےکر فرار ہوا، پولیس نے حسن کی کار بھی برآمد کرلی ہے، واقعے سے متعلق تفتیش جاری ہے۔
سینئر وکیل کا قتل، فائرنگ کرنے والے ملزم کی نشاندہی ہوگئیحراست میں لیے جانے والے دونوں افراد سے ملزم کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے، واقعہ میں ملوث ملزم مفرور ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے حکومت خیبر پختونخوا کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی تشکیل دی گئی، تھانہ درخشاں میں قتل اور دہشتگردی کا مقدمہ درج ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا کہ مقدمے میں مطلوب 11ملزمان کی گرفتاری، منتقلی میں تعاون کیاجائے، ملزمان خیبر پختونخوا میں مقیم یا روپوش ہیں، ملزمان کو کراچی لانے میں مکمل تعاون کیا جائے۔
محکمہ داخلہ سندھ کے خط میں کہا گیا کہ پولیس ٹیم خیبر پختونخوا روانہ ہوگی، ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر کراچی منتقل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔