بھارتی دارالحکومت کے نواح میں ایک جعلی تھانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2025ء) گوتم بدھ نگر، نوئیڈا، کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس شکتی موہن اوستھی نے بتایا کہ پولیس نے منظم دھوکہ دہی کی ایک کوشش کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے نوئیڈا سیکٹر 70 میں ’انٹرنیشنل پولیس اینڈ کرائم انویسٹی گیشن بیورو‘ کے نام سے ایک جعلی دفتر قائم کیا تھا، جہاں پولیس جیسے نشان اور جعلی وزارتوں کے کاغذات استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دینے اور پیسہ بٹورنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور وسیع شواہد قبضے میں لیے گئے، جن میں جعلی شناختی کارڈز، وزارتوں کے سرٹیفیکیٹس، چیک بکس، اے ٹی ایم کارڈز، وزٹنگ کارڈز، سائن بورڈز، موبائل فونز، اور 42,300 روپے نقد شامل ہیں۔
(جاری ہے)
تمام چھ ملزمان کو جوڈیشل حراست میں بھیج دیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
اوستھی نے کہا کہ ملزمان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انٹرپول، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، اور یوریشیا پول سے منسلک ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کا دفتر برطانیہ میں ہے۔پولیس نے مزید بتایا کہ اس گروہ نے حال ہی میں یہ جعلی دفتر قائم کیا تھا اور وہ تقریباً 10 دن سے کام کر رہا تھا۔ یہ جگہ چار جون کو کرائے پر لی گئی تھی۔ اوستھی نے کہا، ’’وہ پولیس کے متوازی نظام کے طور پر کام کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘
جعلی سفارت خانہ، جعلی عدالتیاد رہے کہ یوپی اسپیشل ٹاسک فورس نے 22 جولائی کو دہلی سے ملحق غازی آباد سے 47 سالہ ہرش وردھن جین نامی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا، جو چار مائیکرونیشنز — ویسٹ آرکٹیکا، سیبورگا، پولبیا اور لیڈونیا — کے ’’سفارت خانے‘‘ کرائے کے ایک مکان سے چلا رہا تھا۔
خود کو ان ملکوں کا ’’سفیر‘‘ ظاہر کرنے والے جین کے پاس جعلی سفارتی نمبر پلیٹس، لگژری کاریں، اور سرکاری مہریں وغیرہ موجود تھیں۔ پولیس جین کے خلاف غیر ملکی ملازمت دلانے کے نام پر فراڈ، حوالہ اور خفیہ سرگرمیوں کی تفتیش کر رہی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں گجرات میں ایک جعلی عدالت کا بھی انکشاف ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت مورس سیموئل کرسچن کے طور پر ہوئی، جو 2019 سے خاص طور پر گاندھی نگر کے علاقے میں زمین کے سودوں میں جعلی فیصلے سنا رہا تھا۔
اس جعلی عدالت کا پتہ اس وقت چلا تھا، جب پولیس شکایت درج ہونے کے بعد ایک کیس کی سماعت کے لیے احمد آباد سٹی سول کورٹ میں پہنچی۔
گزشتہ سال نومبر میں گجرات میں ہی ایک جعلی ٹول پلازے کا بھی پتہ چلا تھا، جو پچھلے 12 برسوں سے کام کر رہا تھا اور جعل سازوں نے اس دوران لوگوں سے ٹول کے طور پر تقریباﹰ 75 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بتایا کہ ایک جعلی کیا تھا رہا تھا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔