UrduPoint:
2026-07-24@10:27:55 GMT

بھارتی دارالحکومت کے نواح میں ایک جعلی تھانے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

بھارتی دارالحکومت کے نواح میں ایک جعلی تھانے کا انکشاف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2025ء) گوتم بدھ نگر، نوئیڈا، کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس شکتی موہن اوستھی نے بتایا کہ پولیس نے منظم دھوکہ دہی کی ایک کوشش کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے نوئیڈا سیکٹر 70 میں ’انٹرنیشنل پولیس اینڈ کرائم انویسٹی گیشن بیورو‘ کے نام سے ایک جعلی دفتر قائم کیا تھا، جہاں پولیس جیسے نشان اور جعلی وزارتوں کے کاغذات استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دینے اور پیسہ بٹورنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور وسیع شواہد قبضے میں لیے گئے، جن میں جعلی شناختی کارڈز، وزارتوں کے سرٹیفیکیٹس، چیک بکس، اے ٹی ایم کارڈز، وزٹنگ کارڈز، سائن بورڈز، موبائل فونز، اور 42,300 روپے نقد شامل ہیں۔

(جاری ہے)

تمام چھ ملزمان کو جوڈیشل حراست میں بھیج دیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

اوستھی نے کہا کہ ملزمان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انٹرپول، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، اور یوریشیا پول سے منسلک ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کا دفتر برطانیہ میں ہے۔

پولیس نے مزید بتایا کہ اس گروہ نے حال ہی میں یہ جعلی دفتر قائم کیا تھا اور وہ تقریباً 10 دن سے کام کر رہا تھا۔ یہ جگہ چار جون کو کرائے پر لی گئی تھی۔ اوستھی نے کہا، ’’وہ پولیس کے متوازی نظام کے طور پر کام کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘

جعلی سفارت خانہ، جعلی عدالت

یاد رہے کہ یوپی اسپیشل ٹاسک فورس نے 22 جولائی کو دہلی سے ملحق غازی آباد سے 47 سالہ ہرش وردھن جین نامی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا، جو چار مائیکرونیشنز — ویسٹ آرکٹیکا، سیبورگا، پولبیا اور لیڈونیا — کے ’’سفارت خانے‘‘ کرائے کے ایک مکان سے چلا رہا تھا۔

خود کو ان ملکوں کا ’’سفیر‘‘ ظاہر کرنے والے جین کے پاس جعلی سفارتی نمبر پلیٹس، لگژری کاریں، اور سرکاری مہریں وغیرہ موجود تھیں۔ پولیس جین کے خلاف غیر ملکی ملازمت دلانے کے نام پر فراڈ، حوالہ اور خفیہ سرگرمیوں کی تفتیش کر رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں گجرات میں ایک جعلی عدالت کا بھی انکشاف ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت مورس سیموئل کرسچن کے طور پر ہوئی، جو 2019 سے خاص طور پر گاندھی نگر کے علاقے میں زمین کے سودوں میں جعلی فیصلے سنا رہا تھا۔

اس جعلی عدالت کا پتہ اس وقت چلا تھا، جب پولیس شکایت درج ہونے کے بعد ایک کیس کی سماعت کے لیے احمد آباد سٹی سول کورٹ میں پہنچی۔

گزشتہ سال نومبر میں گجرات میں ہی ایک جعلی ٹول پلازے کا بھی پتہ چلا تھا، جو پچھلے 12 برسوں سے کام کر رہا تھا اور جعل سازوں نے اس دوران لوگوں سے ٹول کے طور پر تقریباﹰ 75 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بتایا کہ ایک جعلی کیا تھا رہا تھا

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف