ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ، ادائیگیوں سے معاشی صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے ، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن جیسے جیسے ادائیگیاں ہوں گی، صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ان کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں معیشت نے استحکام کی طرف پیش رفت کی ہے اور بیشتر معاشی اشاریے مثبت ہیں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور مزید کمی کا امکان ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ نئے سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کا آغاز کیا گیا ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ پالیسی اپنائی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے میں بہتری لانے اور بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق زرعی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے۔ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحات کی نگرانی وزیراعظم کر رہے ہیں، جس سے کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کو سراہ رہے ہیں اور ایک تیسری عالمی ریٹنگ ایجنسی بھی پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرنے والی ہے۔ امریکا سے ٹیرف مذاکرات کے بعد برآمدات کے مواقع بڑھے ہیں اور حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے 400 سے زائد محکموں میں رائٹ سائزنگ جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہدف ایک ایسی معیشت قائم کرنا ہے جو جدت کی حوصلہ افزائی کرے اور کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کرے، جبکہ پالیسی ریٹ کا اختیار مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کے پاس ہونا چاہیے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔