وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز 17 اگست کو جاپان پہنچیں گی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
— تصویر بشکریہ رپورٹر
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے تاریخی دورۂ جاپان کے تمام انتظامات حتمی طور پر مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مریم نواز شریف 17 اگست کو ایک بڑے وفد کے ہمراہ جاپان پہنچیں گی، جہاں جاپان میں پاکستان کے سفیر عبدالحمید ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ اس موقع پر جاپانی حکومت کے اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔
دورۂ جاپان کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مختلف حکومتی شخصیات، بڑے کاروباری اداروں اور جاپانی سرمایہ کاروں سے ملاقات کریں گی۔ وہ ایک خصوصی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی بھی کریں گی اور جاپان کے شہر اوساکا میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش ایکسپو جاپان میں بھی شریک ہوں گی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر ملک نور اعوان کے مطابق ن لیگ جاپان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا جارہا ہے، جو جاپان کے ایک معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوگی۔
اس تقریب میں پانچ سو سے زائد مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ تقریب کی میزبانی مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر ملک نون روان کریں گے، جبکہ مسلم لیگ (ن) انٹرنیشنل افیئرز کے سابق جنرل سیکریٹری شیخ قیصر محمود بھی خصوصی طور پر جاپان پہنچ چکے ہیں تاکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا استقبال کر سکیں۔
اس یادگار تقریب کی آرگنائزنگ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) جاپان کے چیئرمین ملک یونس سمیت دیگر اہم رہنما شامل ہیں، جو انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
یہ دورہ ناصرف پاکستان اور جاپان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے نئے دروازے بھی کھولنے کا باعث بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔