جائیداد اور قتل کے مقدمات 24 ماہ، رقم کے تنازعات 12 ماہ میں نمٹانے کی عدالتی پالیسی منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مقدمات کو نمٹانے کے لیے ٹائم فریم کی منظوری دے دی، جائیداد کے تنازعات 24ماہ، وراثت، پبلک ریونیو اور رقوم کے تنازعات 12 ماہ کم عمر اشخاص کے فوج داری کیسز 6 ماہ ، قتل کیس نمٹانے کی فوج داری ٹرائل کی مدت 24 ماہ طے کی گئی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شرکت کی۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا ایک جامع میکانزم کی ضرورت ہے تاکہ زیر حراست شخص کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاسکے، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ایسا جامع میکانزم بنا کر اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
اجلاس میں اٹارنی جنرل کی اس کاوش کو سراہا گیا، کمیٹی میں عدالتی امور میں خارجی مداخلت بارے ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ بیرونی مداخلت 24 گھنٹوں میں رپورٹ اور اُس پر ایکشن 14روز میں ہونا چاہیے، ایس او پیز میں شکایت کنندہ جج کے وقار کو محفوظ رکھا جائے، ہائیکورٹس ایس او پیز نوٹیفائی کرکے شیئر کریں۔
بتایا گیا کہ کمرشل مقدمہ بازی فریم ورک کیلئے جسٹس محمد شفیع صدیقی جج سپریم کورٹ کی زیر صدارت تشکیل دی گئی تھی، کمیٹی میں جسٹس عابد عزیز شیخ جج لاہور ہائیکورٹ، جسٹس آغا فیصل ہائی کورٹ جج سندھ، جسٹس ارشد علی ہائیکورٹ جج پشاور شامل تھے۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی میں اٹارنی جنرل اور چیئرمین ایف بی آر بھی شامل تھے، ہائی کورٹس کی قابل ستائش کاوشوں کو سراہتے ہوئے کمیٹی نے مختلف نوعیت کے مقدمات کے فیصلوں کیلئے یکساں مدت مقرر کی ہے، طے کردہ ٹائم لائن کی منظوری دی جاتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق جائیداد کے تنازعات کے دعویٰ 24ماہ میں، وراثتی جائیداد کے تنازعات 12ماہ، پبلک ریونیو اور رقوم سے متعلق تنازعات بارہ ماہ میں نمٹانے کی ٹائم لائن طے کی گئی۔
کرایہ داری مقدمات، فیملی دعوے کے مقدمات نمٹانے کی مدت 6ماہ طے کی گئی، بینکنگ کورٹ ڈگری کے مقدمات کو نمٹانے کیلئے 12ماہ کی مدت طے کی گئی، کم عمر اشخاص کے جرائم پر فوج داری کیسز 6 ماہ میں نمٹانے کی مدت طے کی گئی، سات سال تک سزایافتہ فوج داری ٹرائل کو مکمل کے کیس کو نمٹانے کی ٹائم لائن 12ماہ جبکہ سات سال سے زائد عمر کی سزا پر 18ماہ کی ٹائم لائن طے کی گئی، قتل کیس نمٹانے کی فوج داری ٹرائل کی مدت 24 ماہ طے کی گئی، لیبر کیسز نمٹانے کی مدت 6 ماہ طے کی گئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹائم لائن کے ذریعے ججز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے گا۔
اجلاس میں ہائیکورٹس اور ضلعی عدالتوں میں عوام دوست شکایات کے ازالے کیلئے فورم قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس چاہیں تو وہ ماڈل کورٹس ہر ضلع کیلئے طے کرکے سماعت کیلئے مقدمات کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ماڈل سول کورٹس میں ٹائم باؤنڈ ٹرائل رجیم کے تحت کیس دیا جاسکتاہے،صوبائی جیل اصلاحات کی ذیلی کمیٹیاں ہائیکورٹس میں اپنی رپورٹس شیئر کریں، اگلے اجلاس میں قومی جیل پالیسی مرتب کی جائے گی۔
اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ خصوصی عدالتوں، ٹربیونلز میں تعینات عدالتی افسران کی واپسی میں تاخیر کے معاملے کو حقیقت پسندی کیساتھ دیکھا جائے گا۔
اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ہائی کورٹس کو صوبوں کے اکاؤنٹنٹ جنرلز کیساتھ ہم آہنگی کے ذریعے آڈٹ افسران کی تعیناتی میں سہولت دی جائے گی تاکہ انٹرنل آڈٹ ہوسکے۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ انسداد منشیات ایکٹ 1997ء اور متعلقہ صوبائی قوانین کے تحت ایسے مقدمات جن کی اپیلیں دو رکنی بنچ کے سامنے سنی جانی ہیں، ایسے تمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بھی سنی جائیں گی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یقین دہانی کرائی کہ مقدمات کے اندراج کے وقت بائیو میٹرک تصدیق کی شرط پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اس کی پیش رفت کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، قومی عدالتی پالیسی ساز کمٹی کا آئندہ اجلاس 16اکتوبر 2025ء کو ہوگا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ عدالتی پالیسی ماہ طے کی گئی اٹارنی جنرل کے تنازعات ہائی کورٹس نمٹانے کی کے مقدمات ٹائم لائن ہائی کورٹ اجلاس میں فوج داری ماہ میں کی مدت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔