سلمان اکرم راجا کا پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں تاکہ قانونی معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ وہ کل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے باضابطہ گزارش کر کے عہدے سے علیحدگی اختیار کریں گے، تاہم بطور وکیل اپنی خدمات بلامعاوضہ پارٹی کے لیے جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ منگل کو انہوں نے ایڈووکیٹ علی بخاری کے ذریعے عمران خان کو درخواست دی تھی کہ پارٹی ارکان کو دی جانے والی ناحق سزاؤں کے پیش نظر انہیں سیکریٹری جنرل کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے تاکہ وہ قانونی امور پر بھرپور توجہ دے سکیں، تاہم عمران خان نے ان کی درخواست منظور نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیئرمین کے اعتماد پر شکر گزار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کوئی روایتی سیاست دان، جاگیردار یا صنعتکار نہیں بلکہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور اپنے مختصر خاندان کے ساتھ پارٹی کے اندر اور باہر سے ہر طرح کے حملے برداشت کیے ہیں۔
’اپنی بھرپور وکالت اور معاشی استحکام کو پیچھے چھوڑ کر بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور اس پر کوئی ملال نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ آج پیش آنے والے ایک واقعے نے انہیں دو ٹوک فیصلے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے اور وہ کسی بھی اصول کے خلاف عمل یا فکری و معاشی دیانت پر سمجھوتہ برداشت نہیں کر سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بانی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا عمران خان عہدے سے علیحدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا عہدے سے علیحدگی وی نیوز سیکریٹری جنرل پی ٹی ا ئی انہوں نے
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔
https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4