اسلام آباد:

عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی نے سی پی او کو درخواست جمع کرادی اور کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹروں اور بہنوں سے ملنے نہیں دیا جارہا، پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی وکیل تابش فاروق نے سی پی او کو بذریعہ ڈاک درخواست ارسال کردی جس میں سپرنٹنڈنٹ جیل غفور انجم، اے ایس پی زینب سمیت دیگر پولیس افسران  کا نام بھی شامل ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں قواعد کے مطابق سہولیات میسر نہیں، ڈاکٹروں سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا، پولیس و جیل حکام ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز اپنی تقاریر میں بھی بانی پی ٹی آئی کو فتنہ قرار دے چکی ہیں، اے ایس پی اور پولیس افسران و اہلکار بہنوں کو جیل سے دور ناکوں پر روک لیتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران علیمہ خان، نورین خانم اور ڈاکٹر عظمی کو ہراساں و پریشان کرتے ہیں، پولیس افسران بانی کی بہنوں کو اغوا کرکے سنسان جگہوں پر چھوڑ دیتے ہیں، تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس افسران بانی پی ٹی پی ٹی آئی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے