55 سالہ خاتون نے 17ویں بچے کو جنم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
راجستھان کے اودے پور ضلع کی تحصیل جھاڈول میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں 55 سالہ ریکھا کلبیلیا نے اپنے 17ویں بچے کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں جنم دیا، اس موقع پر ان کے رشتہ دار، عزیز اور حتیٰ کہ نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں بھی اسپتال پہنچے۔
ریکھا اور ان کے شوہر کاوارا رام کلبیلیا گاؤں لیلاواس کے رہائشی ہیں، شادی کے بعد اب تک ان کے ہاں 17 بچے پیدا ہوئے جن میں سے 5 بچے پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد وفات پا گئے، جبکہ 7 بیٹوں اور 5 بیٹیوں سمیت 12 بچے زندہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کاوارا رام کے مطابق، 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور ان کے اپنے بھی بچے ہیں, یوں ریکھا اپنے سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش سے قبل کئی بار دادی اور نانی بن چکی تھیں۔
تاہم اس بڑے کنبے کے باوجود خاندان کی مالی حالت نہایت کمزور ہے، کاوارا رام کباڑ کا کام کرتے ہیں جنہیں بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے لیے سود پر قرض لینا پڑا، ان کے خاندان کا کوئی فرد کبھی اسکول نہیں گیا۔
مزید پڑھیں:
بچے کی پیدائش کی نگرانی کرنے والی ڈاکٹر روشن درانگی نے بتایا کہ ابتدا میں ریکھا نے یہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ان کی چوتھی ڈیلیوری ہے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی 16 بچے جنم دے چکی ہیں جن میں سے 5 وفات پا چکے ہیں۔
ڈاکٹر نے کہا کہ اتنی زیادہ زچگیوں کے بعد رحم کمزور ہوجاتا ہے اور زیادہ خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے ماں کی جان کو بھی خطرہ ہوسکتا تھا، مگر خوش قسمتی سے یہ ڈیلیوری بخیروعافیت مکمل ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اودے پور جنم راجستھان ریکھا کباڑ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اودے پور راجستھان ریکھا کباڑ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔