یمنی مسلح افواج نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر ہائپر سونک بیلسٹک میزائل داغا، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں معیاری فوجی کارروائی تھی۔

یمن کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سری نے بدھ کو بتایا کہ میزائل کے حملے سے ایئرپورٹ کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں اور لاکھوں صہیونی قابضین محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

مزید پڑھیں: ہالی ووڈ اداکار بروس ولس کی دماغی حالت بگڑ رہی ہے، بیوی ایما ہیمنگ کا انکشاف

ترجمان کے مطابق کارروائی غزہ کی محاصرہ، قحط اور اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی، اور اسے مذہبی اور اخلاقی فریضے کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ مظلوم فلسطینی عوام اور فلسطینی مزاحمت کے ساتھ حمایت کا اظہار ہو۔

یحییٰ سری نے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور قحط کی پالیسی کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن فتح یافتہ سرزمین ہے اور ہم فلسطین کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید پڑھیں:جنوبی لبنان میں تباہی، اسرائیل کا جنگی جرم قرار، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

ترجمان نے اعلان کیا کہ یمن غزہ کے ساتھ کھڑا رہے گا جب تک محاصرہ ختم نہیں ہوتا اور جارحیت رکتی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جارحیت میں کم از کم 62,895 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیلی فورسز غزہ شہر پر دباؤ بڑھا رہی ہیں اور ٹینکوں اور ہوائی جہازوں سے پورے رہائشی بلاکس کو تباہ کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل غزہ یمن یمنی مسلح افواج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل یمنی مسلح افواج

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم