حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیل کا حملہ، یمنی ائیر ڈیفنس کا کامیاب دفاع
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یمن پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر حملہ کیا تاکہ حوثیوں کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک بار پھر یمنی بندرگاہ حدیدہ میں 12 اہداف پر بمباری کی ہے۔ المیادین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے حدیدہ پر 12 حملے کئے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ دشمن کے فضائی حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا رہے ہیں، ہمارے فضائی دفاع نے دشمن کے طیاروں کو الجھا دیا اور کچھ جنگی طیاروں کو جارحیت کرنے سے پہلے ہی فضائی حدود چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور اللہ کے فضل سے جارحیت روک دی گئی۔ حدیدہ کی بندرگاہ جس پر کچھ عرصہ قبل ہی اسرائیلی فضائیہ نے حملہ کیا تھا، اقوام متحدہ کی ٹیموں کی نگرانی اور استعمال میں ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یمن پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر حملہ کیا تاکہ حوثیوں کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آئندہ چند گھنٹوں میں یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر حملہ کرے گا۔ عبری ذرائع کے مطابق یہ دھمکی تل ابیب کی ڈیٹرنس پالیسی کا ایک حصہ ہے، یعنی یمن اسرائیل کے لئے حقیقی خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فضائیہ کی بندرگاہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔