غزل
اک سراب ِآرزو، دلدار سا تھا سامنے
زہر میں ڈوبا وہ خنجر، پیار سا تھا سامنے
ہیولا تھا، خواب تھا، اک گل تھا یا کوئی خیال
رات کے پہلو میں کوئی، یار سا تھا سامنے
میں جسے سمجھا تھا ہوگا اک گل تازہ کوئی
دل میں چبھنے پر کھلا وہ، خار سا تھا سامنے
عکس اپنا دیکھنے پر باب حیرت اک کھلا
مبتلائے ہجر میں، بیمار سا تھا سامنے
تھی کوئی دیوار اپنے درمیاں تفریق کی
یعنی یہ رنگ و نسل، دیوار سا تھا سامنے
مل رہی تھی مشکلوں میں تھوڑی راحت بھی ہمیں
خار مثل گل کوئی، غمخوار سا تھا سامنے
اس بت کافر نے اپنے پاؤں سے روندا اسے
اک دلِ ناکارہ، جو بیکار سا تھا سامنے
(عامرمعان۔ؔ کوئٹہ)
غزل
اجداد کے نقوش مٹاکر دیے گئے
ہم کو ہمارے حق بھی ستاکر دیے گئے
تم پر تو برق عشق گری ناگہاں مگر
ہم کو تو یہ عذاب بتاکر دیے گئے
قدآوروں نے سائے دیے ہیں بلند تر
لیکن ہمارے قد کو گھٹا کر دیے گئے
دفتر میں شب کی شمس و قمر کا تھا اجتماع
اول وہ رازدار بجھاکر دیے گئے
جو لائقِ اڑان تھے وہ قید کرلئے
پنچھی جو پرکٹے تھے رہا کردیے گئے
جو بھی حسین شخص ملا بے وفا ملا
شیشے میں ہم کو سنگ سجاکر دیے گئے
تاوانِ حریت یوں وطن کا لیا گیا
سر طشت میں بیٹوں کے سجاکر دیے گئے
اعزاز میں ہماری سجائی گئی جو بزم
ہم اس میں سب سے پیچھے کھڑا کردیے گئے
(محمد کلیم شاداب۔ آکوٹ، ضلع آکولہ، مہاراشٹر، انڈیا)
غزل
ترے جہاں میں اگر چہ قلیل وقت رہے
دو لخت، باہم و یکتا و ایک لخت رہے
کیا ہم سے پہلے بھی تھا تیرا انتخاب کوئی
یا بس ہمیں پہ ترے امتحان سخت رہے
کہ جب تلک تھے تری دل کی مسندوں پرہم
ہمارے پاؤں کے نیچے ہزاروں تخت رہے
اُدھر تُو اوروں کی آنکھوں سے جام بھرتا رہا
اِدھر فقیر تیری مے کشی میں مست رہے
اُس اِک گلی میں اگر چہ خدا کا گھر بھی تھا
دراز دست فقیروں کے کورے دست رہے
مرے ہی بخت میں تھا کوئی مسئلہ،ورنہ
رقیب اچھے رہے جن کے تیز بخت رہے
ہمارے قصے بچھڑنے کے بعد بھی جگنوؔ
نہ جانے کتنی زبانوں کی باز گشت رہے
(جگنو چٹھہ۔ جھنگ)
غزل
ایک مجبورہارا جو حالات سے
لوگ کھیلے بہت اس کے جذبات سے
تجھ کو معلوم کیا دل لگی سے تری
کوئی گزرا ہے کتنے ہی صدمات سے
تو نے ہنس کر کسی سے کہا حالِ دل
میری روح مر گئی بس اسی بات سے
بازیٔ پیار میں میرا سب کچھ لٹا
اک ذرا ڈر نہیں اب کسی مات سے
ٹوٹا دل لے کے جائے نزاکتؔ کہاں
فیض پائے ہیں کیا کیا تری ذات سے
(نزاکت ریاض۔ پنڈ مہری،حسن ابدال )
غزل
شام ڈھلے یوں گھر کھاتا ہے
جیسے دیمک در کھاتا ہے
دل کا رونا بعد میں رونا
عشق تو پہلے سر کھاتا ہے
عین عبادت پہلی سیڑھی
شین کا نقطہ شر کھاتا ہے
اس پنچھی نے کب تک اڑنا
جو اپنے ہی پر کھاتا ہے
اس کے نام کی جھوٹی قسمیں
شہر کا نامہ بر کھاتا ہے
ماں جنت کی پہلی سیڑھی
اور جو دھکے نر کھاتا ہے
اس کا وصل ادھورا فیصلؔ
جس کو ہجر کا ڈر کھاتا ہے
(فیصل عزیز اعوان۔ دوحہ، قطر)
غزل
بیٹھ کر رات بھر اکیلی وہ
بس تکے ہاتھ کی ہتھیلی وہ
کل تلک جس میں قہقہے گونجے
آج خاموش ہے حویلی وہ
جیت کر بھی نہ جیت میری ہوئی
شاطرانہ ہے کھیل کھیلی وہ
اس پہ لکھ کے حنا سے نام مرا
چومتی اب بھی ہے ہتھیلی وہ
اک زمانہ تھا روز آتی تھی
لے کے میرے لیے چنبیلی وہ
دور بچپن کا خوبصورت تھا
یاد آتے ہیں یار بیلی وہ
آتا ہو گا خیال راحلؔ کا
بیٹھتی ہو گی جب اکیلی وہ
(علی راحل۔ بورے والا، پنجاب)
غزل
گلابی تتلیوں میں گھِر گیا ہے
مچھیرا مچھلیوں میں گھر گیا ہے
الہی خیر فرما دے کہ میرا
گھروندا بارشوں میں گھر گیا ہے
یقیناً بادشہ کی موت ہوگی
پیادہ سازشوں میں گھِر گیا ہے
مکاں پہلے ہی خستہ تھا کہ اب کے
ادھوری آہٹوں میں گھر گیا ہے
محبت کے لئے دنیا بنی تھی
زمانہ نفرتوں میں گھر گیا ہے
مثلث توڑنے کی جستجو میں
مربع زاویوں میں گھر گیا ہے
کہانی ایک فرضی واقعہ تھی
یہ قصہ راویوں میں گھِر گیا ہے
مرے مولا عصا میں جان دے دے
کہ موسیٰ ساحروں میں گھِر گیا ہے
ابھی تک تھا مگر اب تیرا فیضیؔ
بڑی لاچاریوں میں گھر گیا ہے
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)
غزل
یہ سامنے کا نظارہ ہوا تو جاتا ہے
دعا سے آنسو ستارا ہوا تو جاتا ہے
بجا یہ بات محبت فریب ہے لیکن
فریب سے بھی گزارا ہوا تو جاتا ہے
خبر نہیں کہ مقدر یہ ہونے دے کہ نہیں
وہ ایک شخص ہمارا ہوا تو جاتا ہے
ہوا تھا تیرہ برس پہلے دیکھ کر جو تجھے
وہ دل کا حال دوبارہ ہوا تو جاتا ہے
نہ جانے تجھ سے محبت ہے یا عقیدت ہے
تُو مجھ کو جان سے پیارا ہوا تو جاتا ہے
نہیں اے دنیا ضرورت تری نہیں کہ وہ شخص
اکیلا ہو کے بھی سارا ہوا تو جاتا ہے
(سید عون عباس۔ فیصل آباد)
’’ساونوں کی ہوا‘‘
شاعرانہ سی ہے زندگی کی فضا
چھو رہی ہے مجھے ساونوں کی ہوا
پھول مہکے، گھٹا چھا گئی ہر طرف
دے گئی خامشی بھی عجب اک عطا
رنگ برسے، تصور میں اک عکس تھا
تیرے آنے کی ہر سمت پھیلی ندا
یاد کی نرم چاپوں سے جاگا تھا دل
جھوم اٹھنے لگی خوابوں کی بھی فضا
پھر وہی دھیمے موسم کی ہے مدھ فضا
چھو کے جاتی ہے مجھ کو یہ بھیگی ہوا
سائے میں بھی ہیں کچھ داستانیں چھپیں
خود ہوا کی زباں میں ہے ایک دعا
بارشوں میں ہے بھیگے چمن کی طرح
دل میں آئی تری یاد کی اک عطا
تو جفا سے ملا، ہم وفا کے رہے
کیا یہ عشقِ صمیمی بھی تھی اک خطا؟
چاند بھیگے ہوئے ساونوں میں ملا
دل نے مانا کہ یہ بھی ہے ایک رضا
خوف، تنہائیاں، فاصلہ، درد، غم
سب کو دے دی ترے وصل نے کچھ سزا
اب نہ موسم بدلتا ہے تیرے بغیر
اب تو ہر سانس میں تو ہی تو کی ندا
(بتول مسرت ۔ راول پنڈی)
غزل
روشنی طور پہ اوڑھے جو قبا اتری ہے
ہر نفس پر نئی تفسیرِ ہدیٰ اُتری ہے
نقطۂ وقت کے پیکر سے صدا جاگی تھی
آدمی کی رگِ جاں میں وہ انا اتری ہے
لا مکاں کا جو تسلسل تھا رواں صدیوں سے
ہر مکاں پر وہی تکرارِ بقا اتری ہے
کون سا نور تھا سینے کی دراڑوں میں مقیم؟
کس طرف سے وہ حقیقت کی ضیا اتری ہے
ذرے ذرے پہ کھلا باطنِ ہستی آخر
ذات کے غار میں اک چشمِ خدا اتری ہے
(زبیر احد۔ فیصل آباد)
غزل
خمارِ عشق سے پہلے سکندری کی ہے
جنونِ عشق میں آ کر گداگری کی ہے
ابھی کھڑا جو ہوا تو سنبھل نہ پاؤں گا
ابھی تو پیارے صنم نے ستم گری کی ہے
وصالِ یار کی چاہت تھی اس قدر یارو!
درِ رقیب پہ جا کر بھی نوکری کی ہے
اسی کے ہجر میں کچھ شعر ہم نے لکھے تھے
اسی کے عشق میں ہم نے سخن وری کی ہے
ابھی جو پیچھے ہیں تسکین تو اسی کے لیے
وگرنہ پہلے تو ہم نے بھی رہبری کی ہے
(مزمل رضا تسکین ۔جھنگ)
غزل
دیکھنے میں بھی اچھی خاصی ہے
یہ جو چہرے پہ گھپ اداسی ہے
میری آنکھیں ٹٹولتی ہیں تجھے
میری آنکھوں میں بدحواسی ہے
تجھ سے مل بیٹھنا بھی میرے لیے
عام لفظوں میں خود شناسی ہے
اس نے اعلی لباس پہنا ہے
یعنی ساری ہی بے لباسی ہے
یار آ پھر سے گائوں چلتے ہیں
شہر بھر کی ہوا یہ باسی ہے
(تیمور ساکت۔ ڈیرہ غازی خان )
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں گھ ر گیا ہے میں گھر گیا ہے سا تھا سامنے کر دیے گئے اتری ہے تری ہے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :