متوقع شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ادارے اور عوام الرٹ رہیں، رومہ مشتاق مٹو
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کی رکن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور، رومہ مشتاق مٹو نے صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری کی ہدایات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ متوقع شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ادارے اور عوام الرٹ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً نشیبی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے انتظامات مکمل رکھے اور ریلیف مشینری ہمہ وقت مستعد ہو۔
میڈیا اور ضلعی ادارے عوامی آگاہی مہم میں اپنا فعال کردار ادا کریں تاکہ کوئی بھی شخص بے خبر یا لاپرواہ نہ رہے۔ رومہ مشتاق مٹو نے کہا کہ "یہ وقت یکجہتی اور ذمہ داری کا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کے ذریعے اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور عوام کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔