سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق سیاسی اداکاروں کے فن وزٹ کی بجائے فیلڈ مارشل اپنی نگرانی میں ٹاسک فورس تشکیل دیں ، محمد علی درانی کا ٹاکیز لائیو میں مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز )پاکستان کے معروف ڈیجیٹل نیٹ ورک ٹاکیز لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی اور سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق گوندل نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر حکومت کی غیر سنجیدگی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اداکاروں کے فن وزٹ پر پابندی عائد کرتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اپنی نگرانی میں ایک اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دیں، کیونکہ حکمران مصنوعی ڈراموں میں مصروف ہیں اور تباہی کی اصل تصویر چھپائی جارہی ہے، جس کے بھیانک نتائج کا تصور ہی روح کانپنے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مال مویشی، اجناس اور گھر تباہ ہوچکے ہیں، وہ کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ سیلاب کی خونی موجیں خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تباہی کی داستانیں رقم کرنے کے بعد اب سندھ کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ یہ ایک قدرتی آفت ہے، مگر ناگہانی نہیں تھی۔ حکومت سب کچھ جانتے بوجھتے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ آفت سر پر کھڑی تھی اور حکمرانوں کے بیرونی دورے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

محمد علی درانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیر اعظم اپنے وزیروں اور مشیروں کی فوج کے ساتھ چین میں موجود ہیں، جہاں ایس سی او کانفرنس کے موقع پر دنیا کی توجہ اس تباہی کی طرف مبذول کرائی جا سکتی تھی، مگر ان کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ حکومت کی غیر ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سیلاب کے بعد اقوامِ متحدہ نے 15 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا اور حکومت سے متاثرین کی بحالی کے منصوبے طلب کیے تاکہ یہ رقم موسمیاتی تبدیلیوں کے فنڈز کے تحت پاکستان کو دی جا سکے، لیکن حکومت صرف 3 ارب ڈالر کے منصوبے ہی دے سکی۔ انہیں ذاتی نمود و نمائش اور ڈرامہ بازیوں سے فرصت ہی نہیں ہے۔ ظلم یہ ہے کہ اب حالیہ تباہ کاریوں کو چھپایا جارہا ہے اور ذرائع ابلاغ کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ سب اچھا ہے کی رپورٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو اندازہ تک نہیں کہ لوگ لٹ چکے ہیں۔ بے پناہ جانی و مالی نقصان نے ہر طرف ماتم بپا کر رکھا ہے، جبکہ سیاست دان سوگ کے ماحول میں بھی قہقہے لگا کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔

عوام ان نیرو کے جانشینوں سے بدظن ہوچکے ہیں۔ این ڈی ایم اے سمیت صوبائی ڈیزاسٹر ادارے اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں اور اب سیلاب کے بعد مہنگائی کا ایک اور طوفان دروازے پر کھڑا ہے۔ سیلاب کے بعد وبائی امراض کے پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے اور متاثرین کی بحالی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔مشکل حالات میں افواجِ پاکستان اور رینجرز کے اہلکاروں نے جس جذبے کے ساتھ متاثرین کی مدد کی ہے، عوام اسے قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اپنی نگرانی میں ایک اسپیشل ٹاسک فورس بنائیں جسے سیاسی مداریوں سے پاک رکھا جائے۔ اس میں طلبہ، سماجی کارکنوں اور تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ نقصانات کا درست تخمینہ لگایا جا سکے اور بحالی کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ ترتیب دیا جا سکے۔ مزید برآں آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں کے وفود کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا جائے تاکہ وہ تباہ کاریوں کا مشاہدہ کرکے بحران کے حل کے لیے عملی اقدامات کرسکیں۔محمد علی درانی نے کہا کہ یہ بہت نازک وقت ہے۔ اگر عوام کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا اور انہیں صرف سیاسی مداریوں کے دانت ہی دکھائی دیتے رہے تو ملک خدانخواستہ کسی بڑی خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ، پنجاب میں اونچے درجے سیلاب کا الرٹ جاری، جلال پور پیروالا میں صورتحال خراب، فوج طلب بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ، پنجاب میں اونچے درجے سیلاب کا الرٹ جاری، جلال پور پیروالا میں صورتحال خراب، فوج.

.. پاکستان کا فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پربھرپور آواز بلند کرنے کا اعادہ شکست کے بعد بھارت نے پانی کو ہتھیار بنا کر استعمال کیا، احسن اقبال سیالکوٹ کے 80سرکاری سکولز 10ستمبر تک بند رکھنے اعلان پنجاب سے سیلابی ریلا سندھ میں داخل، بیراجوں پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز کل سے،صبح جوڈیشل کانفرنس ہو گی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اپنی نگرانی میں محمد علی درانی تباہ کاریوں فیلڈ مارشل ٹاسک فورس سیلاب کی

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار