Express News:
2026-07-24@07:08:45 GMT

اگلی باری کس کی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

اُردو اورفارسی میں وحشت و بربریت ، بد اخلاقی اور عالمی سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف جتنے بھی مروّج الفاظ پائے جاتے ہیں ، غاصب و صہیونی اسرائیل کا عملی کردار اِن سب پر پورا اُترتا ہے ۔

برسوں قبل جس کسی نے صہیونی اسرائیل کے وجود کو عالمِ عرب کی پیٹھ میں گھونپے ’’خنجر‘‘ سے تشبیہ دی تھی ، بے جا نہیں تھی ۔ ہمیں مذہبی طور پر بھی یہودیوں سے دوستی نہ کرنے کی جو نصیحت کی گئی ہے ، اسلام دشمن و مسلم دشمن اسرائیلی کردار نے اِسے ثابت بھی کر دیا ہے ۔

جن عرب و خلیجی مسلمان ممالک نے امریکی اشیرواد حاصل کرنے کے لیے اور امریکی دباؤ پر صہیونی اسرائیل کو( نام نہاد ابراہیم اکارڈ کے تحت) تسلیم کیا ہے اور اِس سے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں ، سبھی نے وقتاً فوقتاً اِس مبینہ ’’دوستی‘‘ کے نتائج دیکھ بھی لیے ہیں اور بھگت بھی لیے ہیں ۔

اِس سلسلے کا تازہ ترین سانحہ اور بھگتان 9ستمبر2025کو دیکھنے میں آیا ہے جب صہیونی اسرائیل نے عالمِ عرب کے ایک چھوٹے سے ملک ، قطر ،کے دارالحکومت (دوحہ) پر بِلا اشتعال حملہ کر دیا ۔ حملہ آور اسرائیل نے بہانہ یہ تراشا کہ ’’چونکہ دوحہ میں حماس کے کئی لیڈرز (بشمول خالد مشعل، سہیل الہندی اور خلیل الحیہ) ایک مخصوص عمارت میں پناہ لیے ہُوئے تھے، اس لیے ہم نے اِنہیں قتل کرنے کے لیے یہ حملہ کیا ہے۔‘‘

یہ بہانہ نہائت بے بنیاد اور بوداہے ۔ اِس حملے میں مذکورہ حماسی لیڈرز تو محفوظ رہے ، مگر اُن کے پانچ قریبی ساتھی(بشمول خلیل الحیہ کے صاحبزادے ھمام الحیہ) شہید ہو گئے ۔ گویا اسرائیلی ہدف اور انٹیلی جنس درست تھیں۔ اِس سے قبل صہیونی اسرائیل عالمِ عرب میں پھیلائے گئے اپنے جاسوسوں کی معرفت ایران اورلبنان میں اپنے کئی بڑے مخالفین کو شہید کر چکا ہے ۔

اِس بار بھی اُس کا نشانہ خطا نہیں گیا۔ قطر تو پچھلے کئی برس سے حماسی جنگجو لیڈرشپ اور غاصب اسرائیلی قیادت میں (صلح اور امن کے لیے ) مذاکرات کروا رہا ہے ، جس طرح قطر نے افغان جنگجوؤں ( طالبان) اور امریکیوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کروائے تھے ۔گویا قطر کا امن سازی کے لیے کردار شاندار بھی رہا ہے اور عالمی سطح پر مصدقہ بھی۔ قطر اپنے ہاں امن کے لیے جو مذاکرات کرواتا رہا ہے ، اسے امریکا کی بھرپور سرپرستی بھی حاصل رہی ہے اور تعاون بھی ۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قطر ہر رُخ سے امریکا کا زبردست اتحادی اور ساتھی رہا ہے اور ہنوذ ہے۔

امریکا و قطر کی دوستی و اتحاد کس قدر مضبوط ہے، اِس کا اندازہ ایک مثال سے لگایا جا سکتا ۔ مئی2025کو امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے قطر کا دَورہ کیا تو امیرِ قطر (جناب تمیم بن حماد الثانی)نے محبت اوردوستی کا پائیدار ثبوت فراہم کرتے ہُوئے ٹرمپ صاحب کو 400ملین ڈالرز (ایک کھرب پاکستانی روپے) مالیت کا مہنگا ترین اور جدید ترین جیٹ طیارہ تحفے میں پیش کیا تھا ۔

یہ تحفے تحائف اور محبتیں مگر 9ستمبر کو قطر کے کسی کام نہ آئیں جب صہیونی اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت پر ائر اسٹرائیک کر دیا۔ ڈھیٹ اور بے شرم اسرائیل مگر کسی ندامت کا مظاہرہ کیے بغیر کہہ رہا ہے : ’’جس طرح امریکا نے اپنے دشمن ، اسامہ بن لادن، کو قتل کرنے کے لیے اُس کے خفیہ ٹھکانے پر حملہ کرکے اُسے مارڈالا تھا، اِسی طرح ہم نے بھی دوحہ میں چھپے اپنے حماسی دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے یہ حملہ کیا ہے ۔

اسامہ کو قتل کرنے کے لیے امریکی حملے کی کسی نے بھی مذمت نہیں کی تھی، بلکہ تعریف ہی کی تھی ۔‘‘گویا دوسرے الفاظ میں صہیونی اسرائیل بھی قطر پر اپنے وحشیانہ حملے کے لیے عالمی برادری سے تعریف و تحسین چاہتا ہے ۔ اور اِس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ کئی مغربی ممالک اور امریکا نے اِس حملے کی مذمت نہیں کی ہے ، بلکہ بین السطور اِس کی حمائت ہی کی ہے۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ صہیونی و جارح اسرائیل نے اس لیے قطر پر حملہ کیا ہے کہ اُسے یقینِ واثق تھا کہ قطر پلٹ کر ، اسرائیل کو منہ توڑ جواب نہیں دے گا؟ آج قطر پر اسرائیلی حملے کو پورا ایک ہفتہ گزر چکا ہے ، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قطر کی طرف سے اسرائیل پر جوابی حملہ نہیں کیا گیا ہے ۔ اِس خاموشی کو کیا عنوان دیا جائے ؟

قطر پر بے جا اسرائیلی جارحیت اور قطر کی جانب سے منہ توڑ جواب نہ دیے جانے پر عالمی سطح پر کئی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ممتاز عالمی عسکری جریدےDefence Security Asiaنے یوں لکھا ہے :’’ قطر وہ عرب ملک ہے جہاں(العدید کے علاقے میں)10ہزار سے زائد امریکی فوجیں، جدید ترین اسلحے کے ساتھ، تعینات ہیں۔ اِن امریکی افواج کا ہر وقت امریکی سینٹرل کمان سے عسکری رابطہ رہتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اِس کے باوجود امریکی فوجی قطر پر اسرائیلی ہوائی حملہ کیوں نہ روک سکے؟ اور ان کا قطر میں موجودگی کا قطر کو کیا فائدہ پہنچا؟ کیا امریکا نے دانستہ اپنے ازلی حلیف، اسرائیل، کی بالادستی کے لیے قطر کو دھوکا نہیں دیا؟۔ ‘ یہ جریدہ مزید لکھتا ہے:’’قطر کے پاس رافیل، ٹائیفون، ایف 15 نامی جدید ترین امریکی ، برطانوی و فرانسیسی ساختہ جنگی طیارے بھی ہیں اور امریکی پیٹریاٹ میزائل بھی ہیں اور NASAMSہلاکت خیز میزائل بھی۔ یہ جنگی طیارے فضا میں حملہ آور اسرائیلی جنگی طیاروں کو تباہ بھی کر سکتے تھے اور میزائل قطری فضاؤں میں اسرائیلی میزائلوں کو روک کر فنا بھی کر سکتے تھے ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہُوا۔ آخر کیوں؟۔‘‘

قطر چونکہ پاکستان کا دیرینہ اور نہائت معتمد دوست و اتحادی ملک ہے اور قطر نے ہمیشہ پاکستان کی ہر آزمائش کے موقع پر مالی و سفارتی امداد بھی کی ہے ، اس لیے قطر پر اسرائیلی جارحیت سے ہر پاکستانی کا دل دُکھا ہُوا ہے۔ قطر سے انھی دیرینہ و برادرانہ تعلقات کی اساس پر ہمارے وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف، فوری طور پر دوحہ پہنچے اور امیرِ قطر( تمیم بن حماد الثانی) سے ملاقات کر کے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر اور سعودی ولی عہد بھی فوری طور پر قطر پہنچے اور قطری سربراہ سے تفصیلی ملاقات کی ہے ۔

ظاہر ہے اِن ملاقاتوں میں جارح اسرائیل کی اِس تازہ قابلِ مذمت جسارت ہی پر بات چیت کی گئی ہوگی اور آیندہ کا کوئی مضبوط لائحہ عمل طے کیا گیا ہوگا۔افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ کئی عرب ممالک کی فضاؤں کی خلاف ورزی کرتے ہُوئے12 اسرائیل طیاروں نے قطر پر ہوائی حملہ کیا ہے ، لیکن کوئی بھی اسرائیل طیاروں اور میزائلوں کو روکنے کی جسارت نہ کر سکا۔ کیا یہ بے حسی ہے یا نااہلی؟ حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے والا کوئی بھی عرب یا خلیجی ملک اسرائیل سے سفارتی وتجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان نہیں کر پایا۔ حتیٰ کہ بحرین میں نیا اسرائیلی سفیر چارج لینے پہنچ گیا ہے ۔ بحرینی عوام اِس پر مشتعل ہو کر مظاہرے کررہے ہیں ، مگر بحرینی مملکت نئے اسرائیلی سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم صادر نہیں کررہی ۔

صہیونی اسرائیل کے ہاتھوں قطر کی خود مختاری کی پامالی کو آج 7دن گزر چکے ہیں ، مگر او آئی سی بھی خاموش ہے ، جی سی سی بھی اور عالمِ عرب و عالمِ اسلام کی ہر تنظیم ، تحریک اور ادارہ بھی ۔ کیا اِس سے اسرائیلی جارحیت کو شہ نہیں مل رہی ؟ پچھلے 70برسوں کے دوران صہیونی اسرائیل فلسطین ، مصر، اُردن،شام، لبنان،یمن ، تیونس اور ایران پر حملے کر چکا ہے اور کئی عرب ممالک کی قیمتی اوراسٹرٹیجک زمینوں پر قبضے بھی کر چکا ہے۔ اسرائیل کے چاروں اطراف میں واقع، اسرائیل سے رقبے اور حجم میں کئی گنا بڑے، عرب و مسلم ممالک موجود ہیں ، مگر کوئی بھی اسرائیلی کے سامنے ٹکنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

اب عالمِ اسلام میں یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ قطر کے بعد کونسا اسلامی و خلیجی ملک اسرائیلی جارحیت کانشانہ بنے گا؟ قطر پر تازہ اسرائیلی حملے کے بعد آج 15ستمبر 2025کوقطر کے دارالحکومت میںایمرجنسی میں Arab Islamic Summit کا انعقاد ہو رہا ہے ۔ امیرِ قطر اِس عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کی صدارت کریں گے ۔ دیکھتے ہیں اِس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ خدا کرے مذکورہ’’عرب اسلامک سمّٹ‘‘ ہی عالمِ اسلام کے خوابناک اتحاد کا سندیسہ بن جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت صہیونی اسرائیل حملہ کیا ہے کرنے کے لیے اسرائیل نے ہے اور بھی کر ا نہیں کہ قطر قطر کی قطر کے رہا ہے چکا ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم