ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی وزیراعظم کی عوام دوستی کا ثبوت ہے،امیرمقام
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
نوشہرہ: یومِ دفاع اور یومِ فضائیہ کے موقع پر مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے زیراہتمام نوشہرہ میں ایک عظیم الشان کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی۔ کنونشن سے وفاقی وزیر اور سینئر مسلم لیگی رہنما امیر مقام نے خطاب کیا اور نوجوانوں کے جوش و خروش کو سراہا۔
امیر مقام نے یومِ دفاع اور یومِ فضائیہ کے تناظر میں افواجِ پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ان کے لازوال کارنامے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دشمن کو عبرتناک شکست دی گئی، اور بھارت کو شکست دے کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے دشمن کی تمام چالوں کو ناکام بنایا اور ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم خود ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جو ان کی عوام دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امیر مقام نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے نواز شریف اور شہباز شریف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور اب صوبے کی تقدیر بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اب محض نعرے بازی نہیں بلکہ تعلیم، خدمت اور ترقی پر مبنی سیاست چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو نوجوانوں کو نعرے نہیں بلکہ عملی مواقع اور تعلیم دیتی ہے۔
امیر مقام نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ملک مخالف پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیں اور مثبت بیانیے کو فروغ دیں۔
کنونشن میں رحمت سلام خٹک، بابر سلیم خان، سمیع اللہ برکی سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ امیر مقام نے کہا کہ یہ محض ایک اجتماع نہیں، بلکہ نئی قیادت کی بیداری کی تحریک ہے، جو آنے والے وقت میں خیبرپختونخوا کی سیاست کا رخ بدل دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔