1965 جنگ کے 16ویں روز بھارتی فوج کو کتنا نقصان پہنچا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
سن 1965 کی جنگ کے 16ویں روز ٹینک، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری آلات کے نقصانات کے علاوہ بھارتی فوج کے جانی نقصان کی تعداد 6889 تک جا پہنچی۔
سیالکوٹ اور جموں کے محاذ پر پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص پاک فضائیہ نے دشمن کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے 36 بھارتی ٹینک تباہ کر دیے۔
پاک فوج نے واہگہ، اٹاری اور کھیم کرن میں بھارتی حملے کو ناکام بنایا اور اسے 12 میل بھارتی حدود میں دھکیلتے ہوئے 6 میل تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہوئے راجوڑی سیکٹر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
https://cdn.
پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے بھارتی نیوی کی نقل و حمل مکمل طور پر بند کر دی جبکہ پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں نے بھارتی فضائیہ کے دو ہنٹر طیاروں کو دریائے بیاس پر مار گرایا۔
سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری، کھیم کرن اور گدرو سیکٹر میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے 20 بھارتی ٹینک، متعدد فوجی گاڑیاں اور گن پوزیشنز کو تباہ کر دیا۔
سن 1965 کی جنگ قوم کی اپنی مسلح افواج کے ساتھ محبت اور عقیدت کے ان گنت واقعات سے بھرپور ہے جس کی مثال 16 ستمبر کا دن تھا جب پاکستان کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور عطیات کی صورت میں ڈیفنس فنڈ میں مالی امداد فراہم کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔