عوام کے ہاتھوں گوگل میپس ٹیم کی پٹائی، مگر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
گوگل میپس کی ایک ٹیم کو بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع کانپور کے ایک گاؤں میں دیہاتیوں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارتی ریاست اترپردیشن کے گاؤں بیرہر میں گوگل میپس کے لیے کام کرنے والی ٹیم، جو ٹیک مہندرا کے ذریعے آؤٹ سورس کی گئی تھی، کیمروں سے لیس ایک گاڑی کے ذریعے گاؤں کی گلیوں کی نقشہ کشی کر رہی تھی۔ ٹیم علاقے کی سڑکوں کی تصویریں لے رہی تھی تاکہ گوگل میپس پر درست نقشہ اپ لوڈ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ نے پھر دھوکا دیدیا، نیپال جانے والے سائیکلسٹ بھارت میں بھٹک گئے
مقامی افراد نے جب کیمرہ فٹ گاڑی دیکھی تو انہیں شک ہوا کہ یہ لوگ چوری کی نیت سے معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں متعدد دیہاتیوں نے ٹیم کو گھیر لیا، ان سے پوچھ گچھ کی اور بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔
صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب پولیس موقع پر پہنچی اور ٹیم کو دیہاتیوں سمیت تھانے لے گئی، جہاں گوگل میپس کی ٹیم نے وضاحت دی کہ وہ چور نہیں بلکہ نقشہ سازی کے لیے آئے تھے، اس کے بعد دیہاتیوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس نے ایک سال سے گمشدہ شخص کا معمہ حل کردیا
گوگل میپس سے منسلک ایک ملازم نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے سروے کے لیے ڈی جی پی سے اجازت لے رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنا پیشہ ورانہ کام کررہے تھے لیکن بدقسمتی سے غلط فہمی کا شکار ہوگئے۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں حالیہ دنوں میں چوری کی وارداتیں بڑھی ہیں جس کے باعث وہ چوکس تھے اور یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس کی غلطی: فیملی وین دریا میں بہہ گئی، 3 ہلاک ایک بچہ لاپتا
گوگل میپس کی ٹیم نے دیہاتیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا۔ پولیس کے مطابق، علاقے میں اب امن و امان کی صورتحال معمول پر ہے، پولیس فورس تعینات ہے اور دیہاتیوں کو پرامن طریقے سے منتشر کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اترپردیشن بھارت پولیس تشدد دیہاتی کیمرے گاڑی گوگل میپس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اترپردیشن بھارت پولیس دیہاتی کیمرے گاڑی گوگل میپس گوگل میپس کی کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔