Express News:
2026-07-24@07:08:04 GMT

پشاور، افغان مہاجرین کی جعلی شناختی کارڈ سازی کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

پشاور:

صوبائی دارالحکومت اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں افغان مہاجرین کی جانب سے 1978 کی پالیسی کا سہارا لے کر جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین پرانی تاریخوں میں بنائے گئے مینول شناختی کارڈز، ڈومیسائل، کرایہ نامے، ڈرائیونگ لائسنس اور زمینوں کے جعلی کاغذات جمع کروا کر  کارڈ بنوا رہے ہیں۔

افغان مہاجرین کو جعلی شناختی کارڈ کے اجرا کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جدید پرنٹ اور تازہ صفحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات جعلی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ بعض اہلکار اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی شناختی کارڈ کی تصدیق کی جاتی ہے، جس کے بعد درخواستیں منظور کر لی جاتی ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان جعلی کاغذات کا سائنسی طریقے سے معائنہ کیا جائے اور دستاویزات بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب نادرا حکام کا کہنا تھا کہ شناخت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان  نادرا سید شباہت علی کے مطابق پرانے شناختی کارڈ اور دیگر ثبوت کی تصدیق نادرا اور متعلقہ صوبائی حکومت سے کی جاتی ہے تاہم عوام پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے کسی بھی غلط اندراج کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان مہاجرین شناختی کارڈ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف