بھارت کے پاکستان سے میچ کے بائیکاٹ کی باتیں بھی ایشیا کپ میں دلچسپی کم نہ کر سکیں۔ انتباہ کے باوجود جعلی ٹکٹس کی فروخت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایشیاکپ کا آغاز نو ستمبر سے یو اے ای میں ہو گا۔ پاکستان سے حالیہ کشیدگی کے باوجود بھارتی بورڈ نے ٹورنامنٹ کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس پر اسے اپنے ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سیاستدان، عام افراد اور کئی سابق کرکٹرز پاکستان سے میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہے ہیں، اس کے باوجود کرکٹ شائقین کی ایونٹ میں دلچسپی کم نہیں ہو سکی۔

14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول پاک بھارت میچ کے ٹکٹس چند منٹ میں ہی بکنے کی توقع ظاہر کردی گئی۔

ٹکٹس کی فروخت ہفتے سے شروع ہونے کا امکان ہے، البتہ جعلی ٹکٹس بکنے کا سلسلہ نہ رک سکا، اے سی سی اور ایمرٹس کرکٹ بورڈ کا الرٹ بھی کسی کام نہ آیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق روایتی حریفوں کے درمیان میچ کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں 15.

75 لاکھ بھارتی روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کئی ویب سائٹس پر ٹکٹس پہلے ہی فروخت کے لیے موجود ہیں۔

پاکستان اور بھارت سپر فور مرحلے میں 21 ستمبر کو ایک بار پھر مدمقابل ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچیں تو 28 ستمبر کو تیسرا مقابلہ بھی متوقع ہے۔

بھارت بمقابلہ یو اے ای اور بھارت و عمان کے میچ ٹکٹس بھی مشکوک سائٹس پر فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔ پاکستان کے میچ کے ٹکٹس بھی وہاں موجود ہیں۔

ایک خلیجی اخبار کے مطابق ٹکٹس کی فروخت دو دن میں شروع ہونے والی ہے۔

پاک بھارت مقابلے کے لیے ٹکٹس کی طلب عروج پر پہنچنے کی توقع ہے، روایتی طور پر چند گھنٹوں میں ہی تمام ٹکٹس بک جاتے ہیں۔

دیگر میچز میں بھی یو اے ای میں مقیم غیر ملکیوں کو بھرپور دلچسپی ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کے دوران فروری، مارچ میں ٹکٹس کے لیے چند منٹ میں ہزاروں افراد آن لائن باری کے منتظر تھے، اب بھی یہی توقع ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹکٹس کی فروخت کے باوجود میچ کے

پڑھیں:

مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں

بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں

بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں

انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔

اعتماد میں کمی کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا

رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔

حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گے

ماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنج

جیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب

رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ