Express News:
2026-07-24@09:03:50 GMT

تیانجن سمّٹ :شہباز و مودی ملاقات کا کتنا امکان؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

عوامی جمہوریہ چین نے اعلان کیا ہے کہ تیانجن شہر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کا سربراہی اجلاس مذکوہ تنظیم کی تاریخ کاسب سے بڑا اجتماع ہوگا ۔

یہ اجلاس دو روزہ (31اگست2025 تایکم ستمبر2025)ہوگا ۔ ایس سی او کے رکن ممالک کے اِس سربراہی اجلاس میں ہمارے وزیر اعظم شہباز بھی شریک ہوں گے اور ہمارے حریف ملک، بھارت، کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی۔چینی ترجمان کے مطابق اِس سربراہی اجلاس میں رُوسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ترکیہ صدر طیب اردگان ، ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم ، نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور مالدیپ کے صدر محمد معیز سمیت دُنیا کے20ممالک کے رہنما تشریف فرما ہوں گے۔اطلاعات ہیں کہ یو این او کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوتریس،بھی شرکت کریں گے ۔ اور یوں یہ SCOسربراہی اجلاس (Summit) اپنے قیام سے لے کر اب تک کا سب سے بڑا عالمی فورم بن گیا ہے ۔

چین ہی حقیقی معنوں میںSCOکا آرکیٹیکٹ تھا۔ اِس حوالے سے چین اپنی اِس عالمی کاوش پر جتنا بھی فخر کرے ، کم ہے ۔ پاکستان نے بھی SCOکے ہر ہر لمحے میں چینی کاوشوں اور اقدامات کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اور یوں ، شنگھائی تعاون تنظیم کے توسط سے،پاک چین دوستی مزید مضبوط و مستحکم ہُوئی ہے ۔

آگے بڑھنے سے قبل ضروری ہے کہ تیانجن بارے بھی مختصر تعارف اور واقفیت لی جائے ۔ تیانجن (Tianjin) شمالی چین کا نہائت خوبصورت ساحلی و صنعتی شہر ہے۔ یہ Bohai Seaکے کنارے واقع تاریخی شہر ہے ۔ تیانجن کا معنی ’’ شہنشاہ کا تعمیر کردہ شہر‘‘ بتایا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اِسے کسی بڑے چینی بادشاہ نے بسایا ہوگا۔ یہ چین کے9بڑے، جدید ترین اور امیر شہروں میں سے ایک ہے ۔ اِس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے ۔

چین نے دانستہ ’’تیانجن میں SCOکی سربراہی کانفرنس(Summit) رکھی ہے تاکہ دُنیا پر ثابت کر سکے اور اپنے معزز عالمی مہمانوں کو دکھا سکے کہ اُس کا دارالحکومت ( بیجنگ) ہی نہائت جدید، دولتمند اور ٹیکنالوجی کی سہولیات سے آراستہ پیراستہ نہیں ہے بلکہ ’’تیانجن‘‘ ایسا دُور دراز کا ساحلی و بندرگاہی شہر بھی امریکا ، کینیڈا ، برطانیہ اور مغربی یورپ کے شہروں کا مقابلہ ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر ہے۔ 23اگست2025ء کو چین کے معروف انگریزی اخبار (Global Times) میں مشہور چینی سیاسی دانشور (Xinhua) کا جو تفصیلی اور معلومات افزا آرٹیکل شائع ہُوا ہے، اگر اِس کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ چینی حکومت نے آخر کیوں SCO Summitکے لیے ’’تیانجن‘‘ شہر کا انتخاب کیا ہے !

چین پانچویں بار ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ اجلاس کی میزبانی کررہا ہے ۔ یہ ایک بڑا منفرد اعزاز ہے۔ چینی صدر ،عزت مآب شی جن پنگ، تازہ سمّٹ کیCouncil of Heads of State کی صدارت بھی کریں گے۔ اِس کے علاوہ ایس سی او کی Plus Meetingبھی وہی کریں گے ۔ مرکزی اور خصوصی خطاب بھی انھی کا ہوگا جسے ساری دُنیا (بالخصوص امریکا) آنکھیں اور کان کھول کر سُنے گی ۔ رواں لمحوں میں ٹیرف کے معاملات پر چین اور امریکا کی جس طرح ٹھنی ہُوئی ہے، مذکورہ سربراہی اجلاس سے چینی صدر کا خطاب بہت سی گرہیں کھولے گا ۔اگر گزشتہ دنوں واشنگٹن میں امریکی صدر سے 9یورپی سربراہوں کی ملاقات پر دُنیا کی نظریں ٹکی ہُوئی تھیں تو اب اِنہی رہنماؤں کی نظریں شنگھائی تعاون تنظیم کے اِس تازہ سربراہی اجلاس پرمرتکز ہیں۔

ہمیں تو مگر دلچسپی یہ ہے کہ ’’تیانجن‘‘ میں شہباز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات ہو گی یا نہیں ؟ دونوں ’’تیانجن‘‘ میں موجود ہوں گے ۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ دونوں کے درمیان دعا سلام نہ ہو؟ایک دوسرے سے کنّی کترا کر آگے بڑھنا نا ممکن ہوگا ۔ اگر ایسا ہُوا تو یہ عالمی اخلاقیات کے سراسر منافی ہوگا ۔ پاکستان تو کھلے دل سے مودی جی سے ملاقات کے لیے تیار ہے ، اگرچہ بھارت، بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور مودی جی بکثرت پاکستان میں خونی شیطانیاں بھی کر رہے ہیں اور بالخصوص کے پی کے اور بلوچستان میں فسادات اور خونریزی کو ہوا دے رہے ہیں ۔

کینیڈا ، برطانیہ اور امریکا تک بھارتی دہشت گردیاں پہنچ رہی ہیں ۔ سب پر بھارت کا مکروہ باطنی چہرہ عیاں ہورہا ہے ۔ پاکستان تو اَب ملک میں بھارتی خونی و فسادی مداخلت کو ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے معنون کررہا ہے ۔ اِس کے باوصف پاکستان ، بھارت سے مکالمہ بھی چاہتا ہے ۔ مگر بھارت صرف یک نکاتی ( دہشت گردی) ایجنڈے پر پاکستان سے مکالمہ چاہتا ہے ۔ یہ مگر پاکستان کو منظور و قبول نہیں ۔

’’تیانجن‘‘ میں شہباز و مودی کی موجودگی ہوگی تو ضرور ، مگر ہمارے وزیر اعظم ، شہباز شریف، مودی جی سے ملاقات نہیں کریں گے ۔ اِس بارے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا موقف سامنے آ چکا ہے ۔

بھارتی میڈیا بھی اِس بارے جو شر انگیزیاں کررہا ہے اور جو شرارے پھینک رہا ہے، ان کی موجودگی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے وزرائے اعظم بھلا کیونکر مصافحہ کر سکیں گے؟ نا ممکن !مئی کی چار روزہ پاک بھارت جنگ میں بھارتی ہزیمت کے کارن بھی مودی جی کا مُوڈ سخت آف ہے۔ بھارت میں اُنہیں کئی سوالات کا سامنا ہے اور اُن کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ۔ایسے میں وہ کس منہ سے جناب شہباز شریف سے ملاقات کر سکیں گے؟ اور اگر یہ ملاقات بہ امرِمجبوری ہو بھی جاتی ہے تو واپسی پر نریندر مودی اپنے شریر ، شر انگیز اور بھڑکاؤ میڈیا کا سامنا کیسے کر سکیں گے ؟ ویسے پاکستان و بھارت کے عوام کی تو خواہش ہے کہ یہ ملاقات ہونی چاہیے ۔سب اِس تناؤ اور کشیدگی سے تنگ اور عاجز آ چکے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی پچھلے نصف عشرے سے بول چال تک بند ہے۔

اِس کشیدگی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے عوام پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایس سی او کے مذکورہ سربراہی اجلاس سے چند روز قبل چینی وزیر خارجہ (Wang Yi) نے شٹل بن کر جس انداز میں بھارت،افغانستان اور پاکستان کے دَورے کیے ہیں، اِن سے عام شخص نے یہی اندازے اور قیافے لگائے ہیں کہ چینی وزیر خارجہ نے بھارت اور افغانستان کے ذمے داران کو یہ سمجھانے کی ضرور کوشش کی ہوگی کہ پاکستان کے خلاف شر انگیزیوں سے باز آ جائیں اور یہ کہ باہمی کشیدگی بھی کم کرنے کی کوشش کریں۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور افغانستان کے مقتدر مُلّا طالبان کی کھال مگر موٹی ہے ، انہیں سمجھ دیر ہی میں آتی ہے ۔

دیر سے سمجھ آنے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بھارت کو آج امریکا اور امریکی صدر سے سخت سست سُننی پڑ رہی ہیں ۔ بھارت بھاری اور کمر شکن امریکی ٹیرف کے پہاڑ تلے دَب چکا ہے ۔

اب وہ مایوس ہو کر چین کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔ اُس کے مفسد اور شریر سیکیورٹی ایڈوائزر، اُجیت ڈوول، نے اِسی غرض سے چین کا دَورہ کیا ہے ۔ مودی صاحب بھی اِسی غرض سے باقاعدہ چین کا دَورہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اور اِسی تمنا تلے وہ اَب ’’تیانجن‘‘ کے سربراہی اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے بعض باخبرتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چینی وزیر خارجہ کے مذکورہ سہ فریقی ممالک دَورے کے دوران یقیناً پاکستان و بھارت کے درمیان ملاقات کے لیے کوئی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی ۔ اِن قیاسات کے تحت یہ مہین سی اُمید ہے کہ شائد شہباز و مودی ملاقات ہو جائے ۔

’’تیانجن‘‘ کا یہ سربراہی اجلاس ، بہرحال، بہت سی اُمیدوں اور آشاؤں کا مرکز ہے ۔ اِس اجلاس سے سب سے بڑی یہ اُمید قائم کی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی تلاش کی جا سکے ۔ ’’تیانجن‘‘ سمّٹ سے چین کو دُنیا پر اپنی معاشی ، ٹیکنیکل اور فوجی طاقت کی نمائش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ تیانجن سمّٹ کے بعد چینی دارالحکومت ، بیجنگ، میں چین کی سب سے بڑی فوجی پریڈ میں کئی عالمی رہنما شریک ہو سکیں گے۔ شہباز شریف صاحب بھی ان میں شامل ہیں۔ چین فوجی اعتبار سے بھی دُنیا پر آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔اِس اقدام سے امریکا سب سے زیادہ پریشان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس شہباز شریف ممالک کے سکیں گے کریں گے رہا ہے سے چین

پڑھیں:

وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات

(اویس کیانی) وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں پاکستان کے توانائی اور کریٹیکل منرلز کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیاگیا۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے امریکی توانائی کمپنی مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تیجارہ کیپیٹل کے سی ای او احمد ولید سے ملاقات کی،مورگن ہیوز انرجی اور تیجارہ کیپیٹل بلوچستان میں معدنیات کے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔
 صدر مورگن ہیوز انرجی گریگوری بلوم نے اس موقع پر کہاکہ پاکستان کے تیل و گیس کی موجودہ فیلڈز کی پیداوار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں  جس پروفاقی وزیرعلی پرویز ملک نے کہاکہ مقامی توانائی پیداوار میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا کے سی ای او کیرن گالاگر سے بھی ملاقات کی ،اس موقع پرعلی پرویز ملک نے گوادر میں ویٹول کی جانب سے بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی اورکہاکہ ویٹول کے ہائی سلفر فیول آئل کو ویری لو سلفر فیول آئل میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی مکمل حکومتی سپورٹ فراہم کریں گے۔
جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی نئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت دستیاب مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر علی پرویز ملک نے کہاکہ حکومت ویٹول سمیت عالمی توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر بات چیت کر رہی ہے۔
 
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت