مختلف علاقوں میں نادرا مراکز کی عارضی بندش کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک کے مختلف علاقوں میں مراکز کی عارضی بندش کا اعلان کر دیا۔
پنجاب کے مختلف علاقے طوفانی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہے۔ ایسے میں نادرا نے بھی شہریوں کے تحفظ کیلیے اہم اقدام اٹھا لیا۔
نادرا نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث مراکز کی عارضی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث اس کے درج ذیل مراکز عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں:
وانیکے تارڑ، حافظ آباد
جلالپور بھٹیاں، حافظ آباد
18 ہزاری، جھنگ
احمد نگر، چنیوٹ
مڈھ رانجھا، سرگودھا
کری شریف، گجرات
کوٹلی لوہاراں، سیالکوٹ
سید پور، سیالکوٹ
خدمت مرکز، سیالکوٹ
دیپالپور، اوکاڑہ
اتھارٹی نے کہا کہ ان تمام علاقوں کے شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ خدمات کے سلسلے میں دیگر قریبی مراکز پر تشریف لائیں جہاں اضافی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے موبائل رجسٹریشن وین تعینات کی گئی ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔