شی جن پنگ اور پیوٹن کی 150 سال جینے پر دلچسپ گفتگو، اتفاقاً مائیک پر ریکارڈ ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
چین میں دوسری جنگ عظیم میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی فوجی پریڈ کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا — روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ایک نجی گفتگو غیر ارادی طور پر مائیک پر ریکارڈ ہوگئی۔
یہ منظر اس وقت سامنے آیا جب دونوں رہنما شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ہمراہ عالمی رہنماؤں کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے پریڈ کے مقام کی جانب جا رہے تھے۔
برطانوی خبررساں اداروں کے مطابق سرکاری چینی ٹی وی (CCTV) کی براہ راست کوریج میں ان کی گفتگو نشر ہوگئی، جسے بعد میں دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز نے حاصل کر لیا۔
پیوٹن کے مترجم کو چینی زبان میں شی جن پنگ سے کہتے ہوئے سنا گیا بایوٹیکنالوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ انسانی اعضا کو بار بار ٹرانسپلانٹ کیا جا سکتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ زندہ رہیں گے، اتنے ہی جوان نظر آئیں گے… شاید آپ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکیں!”
اس پر شی جن پنگ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اس صدی میں انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔”
ادھر کم جونگ اُن، جو ان دونوں رہنماؤں کے ساتھ چل رہے تھے، صرف مسکرا کر ان کی گفتگو سنتے رہے — تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کے لیے بھی ترجمہ کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
چینی ریڈیو اور ٹی وی ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس پریڈ کی کوریج کو صرف آن لائن ہی 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔