بیجنگ میں بدھ کو منعقدہ شاندار فوجی پریڈ میں آبدوز ڈرونز، دیوہیکل میزائل اور لیزر ہتھیاروں نے حاضرین کو محو کر دیا، یہ پریڈ اس وقت ہوئی جب چین اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، اور اسے چین کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فوجی ماہرین نے اس تقریب کو خاص توجہ سے مانیٹر کیا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سمیت کئی اہم عالمی رہنما شریک ہوئے۔

پریڈ سے قبل خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے دوسری جنگِ عظیم میں جاپان پر چین کی فتح کے 80 سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے ملک کو ’ناقابلِ تسخیر‘ قرار دیا، بعدازاں جدید فوجی ساز و سامان تیانمن اسکوائر میں موجود ہزاروں افراد کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں فضا میں مسرت انگیز موسیقی گونج رہی تھی۔

بین البراعظمی میزائل

چین نے اپنی نئی دفاعی ٹیکنالوجی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ڈی ایف 5 سی انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل کی نقاب کشائی کی، یہ بھاری بھرکم ایٹمی ہتھیار ’ڈونگ فینگ‘ سیریز کا حصہ ہیں اور انہیں بڑی، کیموفلاج کی گئی فوجی گاڑیوں پر نمائش کے لیے پیش کیا گیا، چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق ڈی ایف 5 سی دنیا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبدوز ڈرونز

پریڈ میں دو نئے دیوہیکل آبدوز نما ڈرونز اے جے ایکس 002  اور ایچ ایس یو 100 پیش کیے گئے، دفاعی تجزیہ کار الیکس لک کے مطابق، پہلا ڈرون ممکنہ طور پر جاسوسی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے جبکہ دوسرا ڈرون بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیول نیوز کے مطابق چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ’ایکسٹرا لارج ان مینڈ انڈر واٹر وہیکل‘پروگرام موجود ہے، جس کے کم از کم 5 ماڈلز پہلے ہی سمندر میں موجود ہیں۔

سپرسونک میزائل

پریڈ میں 4 نئے اینٹی شپ میزائل وائی جے 15، وائی جے 17، وائی جے 19 اور وائی جے 20 بھی پیش کیے گئے، یہ میزائل جہازوں یا طیاروں سے فائر کیے جا سکتے ہیں اور بڑے بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض ماڈلز ہائپرسونک ہیں، جو آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ تیز پرواز کر سکتے ہیں۔

لیزر ہتھیار

پریڈ سے قبل جس ہتھیار نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، وہ تھا ایل وائی 1  لیزر ایئر ڈیفنس سسٹم، جسے دنیا کا ’سب سے طاقتور لیزر ہتھیار‘ قرار دیا جا رہا ہے، بڑے سفید ڈھانچوں پر مشتمل یہ نظام فوجی گاڑیوں پر نصب کر کے پیش کیا گیا۔

یہ ’ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز‘ کم لاگت میں انتہائی درستگی سے بڑے نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور امریکا سمیت دیگر ممالک بھی اس پر کام کر رہے ہیں۔

بغیر پائلٹ کے گاڑیاں

آبدوز ڈرونز کے ساتھ ساتھ کئی سطحی ڈرونز، بغیر پائلٹ کے طیارے اور زمینی گاڑیاں بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جو مختلف مقاصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جن میں کان کنی کی صفائی، سامان اور گولہ بارود کی ترسیل، فوجیوں کی منتقلی اور جاسوسی شامل ہیں۔

ریڈار سسٹمز

پریڈ میں جدید ریڈار سسٹمز بھی نمایاں رہے، زمین پر بڑے ڈیٹیکشن آلات اور فضا میں ریڈار سے لیس طیارے ملک کی نگرانی کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے رہے۔

پہلی بار کے جے 600 ارلی وارننگ طیارہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا، جسے آئندہ چند ماہ میں چین کے نئے ایئرکرافٹ کیریئر ’فوجیان‘ میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبدوز ڈرونز امریکا ایئرکرافٹ کیریئر بین البراعظمی میزائل چین ڈیٹیکشن ریڈار ریڈار سسٹمز سپرسونک میزائل گولہ بارود لیزر ہتھیار ہتھیار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایئرکرافٹ کیریئر بین البراعظمی میزائل چین ڈیٹیکشن ریڈار ریڈار سسٹمز گولہ بارود لیزر ہتھیار ہتھیار لیزر ہتھیار پیش کیا گیا کی صلاحیت پریڈ میں وائی جے کیے گئے پیش کی کے لیے

پڑھیں:

روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔

حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔

یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔

روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟