سوڈان میں بارش سے تباہی، لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں ملیامٹ، ایک ہزار افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
SUDAN:
سوڈان کے مسلح گروپ کے زیرقبضہ مغربی علاقے میں بارش نے تباہی مچا دی ہے جہاں پورا گاؤں ملیامیٹ ہوگیا اور ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ مسلح گروپ نے لاشیں نکالنے اور ریسکیو کے لیے بیرونی مدد کی اپیل کی ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مسلح گروپ سوڈان لبریشن موومنٹ/آرمی نے کہا کہ دارفر ریجن کے پہاڑی علاقے جبل مارا میں گاؤں تارسین تباہ ہوگیا ہے جہاں صرف ایک شہری کو بچالیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلح گروپ نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فلاحی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشیں نکالنے کے لیے مدد فراہم کریں جہاں جہاں بحق ہونے والوں میں مرد و خواتین اور بچے شامل ہیں۔
گروپ نے بیان میں کہا کہ گاؤں تارسین مکمل طور پر مٹ چکا ہے اور مسلسل بارش کی وجہ سے علاقے میں سفر کرنا مشکل ہوچکا ہے اور امدادی کارروائیوں میں رکاؤٹ ہو رہی ہے۔
سوڈان کے مسلح گروپ کے سربراہ عبدالوحید محمد نور نے ایک الگ بیان میں کہا کہ قریبی گاؤں میں بھی اسی طرح کی لینڈسلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور ہنگامی بنیاد پر شیلٹر فراہم کرنے کے لیے ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 300 سے 1000 کے درمیان بتائی ہے۔
بین الاقوامی ادارہ پلان انٹرنیشنل کے علاقائی نمائندے ارجمند حسین نے بتایا کہ تارسین گاؤں کا 45 کلومیٹر علاقے میں گاڑیاں جانے کی کوئی صورت نہیں ہے جہاں صرف پیدل یا خچروں کے ذریعے امداد پہنچائی جاسکتی ہے۔
جبل مارا ایمرجنسی روم سے مقامی عہدیدار عبدالحفیظ علی نے بتایا کہ رضاکاروں نے 9 لاشیں نکالی ہیں اور گاؤں میں سیکڑوں بے گھر ہونے والے افراد کو پناہ دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سوڈان میں پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈان کی فوج کے درمیان گزشتہ چند برسوں سے شمالی دارفر کے دارالحکومت فاشر کے کنڑول اور اقتدار کے حصول کی جنگ جاری ہے اور اب تک سیکڑوں افراد مارےگئے ہیں تاہم سوڈان لبریشن موومنٹ اس لڑائی میں غیرجانب دار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلح گروپ کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔
رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔