Express News:
2026-07-24@10:14:46 GMT

سیلاب کا مستقل حل اور SCO ممالک کے لیے فنڈ کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT

پاکستان کے تمام دریاؤں کے کنارے ٹوٹ گئے ہیں اور بہت سے مزید بندوں میں شگاف کی تیاری ہو چکی ہے۔ آدھے سے زیادہ پاکستان بھارت کی طرف سے آئے ہوئے سیلابی ریلے میں ڈوب رہا ہے۔ لاکھوں مویشی ساتھ چھوڑ گئے، لاکھوں افراد اپنی چھتوں کے سائے سے محروم ہو کر کھلے آسمان تلے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقے جہاں کپاس، چاول، گنا اور سبزیاں وغیرہ بوئی جاتی تھیں اور یہ علاقے اور یہاں کی زرعی پیداوار جوکہ معیشت کی ریڑھ سمجھے جاتے تھے اب اجڑ کر رہ گئے ہیں۔ ان دو سے تین ہفتوں میں ہزار سے زائد افراد بے قابو سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔

لاکھوں ایکڑ اراضی پانی میں ڈوب کر ندی نالے اور دریا کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ کسانوں کی دیہی معیشت جوکہ پہلے ہی قرضوں سے گزر رہی ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے زخم خوردہ ہے اب پڑوسی ملک نے جب سے آبی جنگ کا آغاز کیا ہے ان کی معیشت بھی سیلابی پانی میں بہہ گئی ہے۔ ایسے میں کسان اپنی فکر کے بجائے بچے کچھے مال مویشیوں کی فکر میں دن رات گھلا چلا جا رہا ہے، اگر بھوک کی شدت میں بھی کچھ طلب کرتا ہے تو اپنے جانوروں کی خوراک کا مطالبہ کرتا ہے۔

78 برس کا عرصہ گزر گیا، ہم نے موٹر ویز بنا لیے، بڑی سے بڑی بلڈنگز کھڑی کر لیں، دریاؤں کا راستہ روک کر قیمتی سے قیمتی مہنگی ترین سوسائٹیز آباد کر ڈالیں، لیکن ان دریاؤں کے کنارے نہ سنبھال سکے جو بارش آئے یا سیلاب آئے تو سارا پانی غریب کسان کی کھیتی ڈبوتا ہے۔ گھروں کو ویران کر دیتا ہے اور اپنے ساتھ ہماری غلطیاں یاد دلانے کی خاطر مال مویشی سامان و اسباب سب بہا کر لے جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آنے والا سیلابی پانی سمندرکی نذر ہو جاتا ہے لیکن سمندر کی طرف جانے سے پہلے ہر طرح کی تباہی مچا دیتا ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف 30 دن پانی کا ذخیرہ کر سکتا ہے۔ بھارت کے پاس 200 دن اور امریکا کے پاس 900 دن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہمیں چین یا ہالینڈ جیسے چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنانے کا وسیع تجربہ بھی ہے ، ان سے سیکھ لیتے تو یہ سارا پانی ضایع ہونے اور تباہی پھیلانے سے باز آجاتا۔پاکستان کی 65 فی صد آبادی دیہی ہے، اس موسم میں کپاس اور چاول کی فصل برباد ہو کر رہ گئی۔

3 سے 4 ارب ڈالر چاول کی برآمد سے حاصل کرلیتے تھے اور ایک ارب سے دو ارب ڈالر تک کپاس کی برآمد سے حاصل کرلیتے تھے۔ مزید یہ کہ 16-17 ارب ڈالر کپاس پر مبنی صنعت کی برآمد سے حاصل ہو جاتا تھا۔ میرا اپنا اندازہ ہے کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق پاکستان کے کسانوں کا 6 سے 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جس میں مویشی و مال اسباب اور گھروں کے ڈھے جانے کا نقصان شامل ہے۔ کسانوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا کہ اب ان کے پاس سارے سال کا ذخیرہ کردہ خوراک جیسے چاول، گندم، مکئی وغیرہ اور فروخت کے لیے کپاس اور دیگر فصلیں وہ سب تباہ ہو کر رہ گئی ہیں۔

مویشی مال و املاک بہہ گئے، اب کیا ہوگا؟ کسان کہاں جائیں گے؟ انھی کسانوں کی معاشی مشکلات کو لے کر پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ بیجنگ میں چینی قیادت اور معاشی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی معاشی مشکلات، معاشی پروگرام اصلاحاتی پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دراصل فوری طور پر چین ہے جو ہمیں کسانوں کی بحالی زرعی معیشت دیہی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے تعاون کر سکتا ہے۔SCO سمٹ جو اپنی نوعیت کا بہت بڑا اجلاس تھا، اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے چین اور دوست ممالک کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ فوری انسانی امداد کے تحت خوراک، خیمے، ادویات اور طبی عملہ، سانپ کاٹے کی ویکسین وغیرہ کی ضرورت پر زور دیا۔

اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ کاری جس میں پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے، ڈیموں کی تعمیر اور جدید زرعی انفرا اسٹرکچر تاکہ سیلاب آیندہ کسانوں کی زندگی اس طرح برباد نہ کرے۔ وزیر اعظم نے تجویز دی کہ SCO ممالک ایک مشترکہ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ قائم کریں تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کو فوری سہارا دیا جاسکے۔اگر اس اجلاس سے پاکستان کے لیے چین اور SCO ممالک سیلاب متاثرین کے لیے امدادی ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ساتھ ہی فوری طور پر بڑے ڈیمز اور ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو موسمیاتی آفات سے محفوظ بنانے کی سمت ایک قدم ہوگا۔

ان سب باتوں کے باوجود حکومت کے پاس بھی وسائل کم ہیں اور دنیا ہماری مدد کو نہ جانے کب آئے گی، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قوم آگے بڑھے۔ یہ وقت ہے قوم کا۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں کتابوں میں یہ تجزیہ لکھا جائے گا کہ پاکستانی قوم نے آزمائش کی اس گھڑی میں بھارت کی مسلط کردہ آبی جنگ میں دنیا کی مدد کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود اٹھ کھڑے ہوئے۔ مدد لے کر اپنے بھائیوں کے پاس پہنچے۔ ان کے لیے دوا، علاج، روٹی، خیمے، بستر اور ہر شے کا انتظام کیا۔

اٹھ باندھ کمر کیا ڈر ہے دریا کے تھپیڑوں سے

چمک اٹھے گا سورج تیری ہمت کے اجالوں سے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے کسانوں کی ارب ڈالر گئے ہیں کے لیے کے پاس

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب