’روسی آئل درآمد کیا تو تجارت بڑھی‘، شہباز شریف کا پیوٹن سے اظہار خیال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقفوزیراعظم شہباز شریف نے صدر پیوٹن سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان نے روس سے تیل درآمد کیا جس کے بعد تجارت میں اضافہ دیکھا گیا۔
???????????????????????? ‘We imported oil from Russia and saw a spike in trade… our relations are on the right track thanks to your commitment — Pakistan’s PM Shehbaz Sharif told Putin in Beijing
’I find in you a very dynamic leader & I’d like to work with you very closely’ https://t.
— RT (@RT_com) September 2, 2025
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلقات درست سمت میں ہیں اور اس میں آپ کے عزم کا بڑا کردار ہے۔
شہباز شریف نے صدر پیوٹن کو ایک انتہائی متحرک رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ قریبی سطح پر کام کرنا چاہتے ہیں۔
صدر پیوٹن کا ردعملروسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کو ’روایتی شراکت دار‘ قرار دیا اور کہا کہ ماسکو اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روس پاکستان کے ساتھ دوستی کے نئے اُفق کی تلاش میں ہے، ویلنٹینا مٹوینکو کا سینیٹ سے تاریخی خطاب
انہوں نے زور دیا کہ حالیہ برسوں میں تجارت میں کمی کے باوجود تعلقات کو دوبارہ مضبوط کرنے کے مواقع موجود ہیں۔
ایس سی او کانفرنسیہ ملاقات بیجنگ میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جہاں خطے کے اہم رہنماؤں نے اقتصادی تعاون، توانائی کے شعبے اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور روس دونوں ایس سی او کے رکن ہیں اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایس سی او کانفرنس پاکستان چین روس شہبازشریف صدر پیوٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس سی او کانفرنس پاکستان چین شہبازشریف صدر پیوٹن شہباز شریف صدر پیوٹن
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔