Express News:
2026-07-24@09:57:22 GMT

سیلاب میں اجڑے گھر، ڈوبے خواب اور قرض کی زنجیریں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT

لاہور:

سیلاب کی تباہ کاریوں نے جہاں کھیت کھلیانوں کو روند ڈالا وہیں بہت سے لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی بھی چند ہی لمحوں میں مٹی اور پانی میں دفن ہوگئی۔

لاہور میں موہلنوال کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں وہ گھر جو خوشیوں کے خوابوں سے آباد کیے گئے تھے، آج شکستہ دیواروں، گرے ہوئے دروازوں اور پانی میں ڈوبے سامان کے ساتھ ویران کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان مکینوں کے دکھ صرف سامان اور مکان کے نقصان تک محدود نہیں بلکہ ان پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی ایسا ہے جو ان کے کاندھوں پر اور زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔

بشارت بی بی نے چند روز پہلے ہی اپنے خوابوں کا گھر مکمل کیا تھا۔ خوشی اتنی زیادہ تھی کہ گھر میں دعا کروانے کی تیاری ہو رہی تھی لیکن قدرت کی بے رحم آفت نے ان کی خوشیاں چھین لیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں جب وہ بتاتی ہیں کہ 10 اگست کو گھر مکمل ہوا، ابھی دعا کروانی تھی کہ سیلاب نے سب کچھ اجاڑ دیا۔

بشارت بی بی کے شوہر جو رکشہ چلاتے ہیں، گھر کی رنگ و روغن کے دوران گر کر زخمی ہوگئے۔ بازو فریکچر ہے اور کام بھی رکا ہوا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ گھر انہوں نے "اپنی چھت اپنا گھر" اسکیم کے تحت اخوت سے قرض لے کر بنایا تھا۔ پہلی قسط ابھی ادا بھی نہ ہوئی تھی کہ گھر پانی میں بہہ گیا۔ بشارت بی بی کی آواز میں بے بسی صاف جھلکتی ہے اب نہ گھر ہے نہ سامان، اور قرض بھی واپس کرنا ہے۔

ندیم اقبال اور ان کے بھائیوں کا دکھ بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ برسوں کی محنت، پسینے اور جمع پونجی کو یاد کر کے ٹوٹے دل سے کہتے ہیں ہم نے زندگی بھر کی کمائی خرچ کر کے یہ گھر بنایا تھا لیکن سیلاب نے سب خواب اور ساری خوشیاں برباد کر دیں۔ ان کے گھر میں اب بھی کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے اور وہ بے بسی سے اپنی کھڑکیوں کے باہر لہروں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

محمد جہانگیر کے گھر سے اگرچہ پانی اتر چکا ہے مگر تباہی کی داستانیں وہاں ہر کونے میں بکھری ہوئی ہیں۔ ان کے دروازے کیچڑ میں اٹے ہوئے ہیں، فرنیچر سوج کر ٹوٹ چکا ہے، پانی کی موٹر اور برقی آلات ناکارہ ہو گئے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب سیلابی پانی آیا تو پولیس اور حکام نے سب کو گھر سے نکال دیا اور کسی کو کچھ ساتھ لینے کی اجازت نہ دی۔ جہانگیر کی والدہ چھت پر بیٹھی اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان دھوپ میں سکھا رہی ہیں۔ ان کے ہاتھ کپڑوں پر رگڑتے ہیں مگر آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں بیٹی کے جہیز کا سامان خریدا تھا، سب خراب ہوگیا۔ کچھ چیزیں تو چوری بھی ہو گئیں۔

جہانگیر دکھ بھری آواز میں بتاتے ہیں کہ ان کا سولر سسٹم کا انورٹر بھی کوئی اٹھا کر لے گیا۔ یہ صرف انہی کا نہیں، بلکہ علاقے کے کئی رہائشیوں کا حال ہے جو نہ صرف سیلاب سے محرومی کے زخم سہہ رہے ہیں بلکہ چوریوں کا دکھ بھی جھیل رہے ہیں۔

یہ کہانیاں ان سیکڑوں گھروں کی ہیں جو  نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قرض لے کر تعمیر کیے گئے تھے۔ اب جب پانی نے اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے تو مکین نہ صرف اپنے اجڑے گھروں کو دیکھ کر دکھی ہیں بلکہ قرضوں کی قسطیں لوٹانے کی فکر نے انہیں مزید کچل دیا ہے۔

یہ لوگ اب حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب ہماری آواز سنیں۔ ہم نے خواب دیکھے تھے، محنت کی تھی، قرض لے کر اپنے بچوں کے لیے چھت بنائی تھی مگر سب کچھ ختم ہوگیا۔ کم از کم ہمارے قرض معاف کر دیے جائیں تاکہ ہم دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔

یہ انسانی المیہ صرف تباہ گھروں کا نہیں، بلکہ ٹوٹے خوابوں، بہتے جہیز، ملبے تلے دبے مستقبل اور قرض کی زنجیروں میں جکڑے ان لوگوں کا ہے جنہیں اب بھی امید ہے کہ شاید ریاست ان کی آواز سنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی ستلج اور چناب میں سیلاب کے 33 سو سے زائد موضع جات  میں 33 لاکھ 63 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب میں پھنس جانے والے 12 لاکھ 92 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہے ہیں ہیں کہ

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی

19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ

زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if

— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026

یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔

ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی

پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب