دریائے راوی اور ستلج بے قابو: ہیڈ سدھنائی کو بچانے کیلئے مائی صفوراں بند توڑ دیا گیا، کئی دیہاتوں کو خطرہ لاحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب میں دریائے راوی اور ستلج کی طغیانی اب بھی قابو میں نہیں آ سکی۔ خانیوال میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند دھماکے سے توڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں کبیر والا کے 30 اور پیر محل کے 7 دیہات شدید متاثر ہوں گے۔
خانیوال اور لودھراں کی صورتحال
ہیڈ سدھنائی میں پانی کے اخراج کی گنجائش ڈیڑھ لاکھ کیوسک ہے، لیکن موجودہ وقت میں اس سے زائد پانی گزر رہا ہے۔ بند توڑنے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور مقامی آبادی دونوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
دوسری طرف دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث لودھراں اور بہاولپور کے تین بند ٹوٹ گئے۔
وہاڑی، تاندلیانوالہ اور ملتان متاثر
سیلاب نے وہاڑی میں 65 ہزار سے زائد آبادی متاثر کی جبکہ تاندلیانوالہ کے 30 دیہات زیرِ آب آگئے۔
ملتان میں دریائے چناب کا بڑا ریلا داخل ہو گیا ہے، اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 4 فٹ بلند ہو گئی۔ ہیڈ محمد والا پر دباؤ کم کرنے کے لیے شگاف ڈالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
چنیوٹ، جھنگ اور مظفرگڑھ میں تباہی
چنیوٹ میں 150 اور جھنگ میں 261 دیہات ڈوب گئے۔
مظفرگڑھ کے رنگ پور میں 24 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے، شہر کو خطرے کے پیش نظر ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
پاک فوج کا ریلیف آپریشن
سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سیکڑوں افراد اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
امدادی کیمپس میں کپڑے، راشن، ادویات اور فری میڈیکل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ متاثرین نے فوج کے کردار کو سراہا ہے۔
دریاؤں میں پانی کا بہاؤ (پی ڈی ایم اے رپورٹ)
چناب: ہیڈ مرالہ 3,84,551 کیوسک، خانکی 2,97,752 کیوسک، قادرآباد 2,13,744 کیوسک، ہیڈ تریموں 3,65,352 کیوسک۔
راوی:جسڑ 71,010 کیوسک، شاہدرہ 53,630 کیوسک، ہیڈ بلوکی 1,17,655 کیوسک، ہیڈ سدھنائی 1,93,470 کیوسک۔
ستلج: گنڈا سنگھ والا 2,69,501 کیوسک، ہیڈ سلیمانکی 1,22,736 کیوسک، ہیڈ اسلام 95,727 کیوسک، ہیڈ پنجند 1,82,107 کیوسک۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہیڈ سدھنائی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔