پنجاب میں مون سون بارشوں کا 11واں اسپیل کل سے شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ مون سون بارشوں کا 11 واں  اسپیل کل سے شروع ہوگا،  16 سے 19 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی مری گلیات اٹک چکوال جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع  ہیں، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں بارشوں کا امکان ہے، 18 اور 19 ستمبر کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات کے ندی نالوں میں بہاؤ کے اضافے کا امکان ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے  نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب  کی ہدایات کے پیش نظر صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز الرٹ ہیں، مون سون بارشوں کے باعث بڑے شہروں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

ڈی جی عرفان علی کاٹھیا  نے کہا کہ محکمہ صحت  آبپاشی  تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لایئو سٹاک کو الرٹ جاری کر دیاگیا ہے، شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کر یں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

دریاؤں میں پانی کی آمد اور اخراج کے اعداد و شمار جاری

ترجمان واپڈا نے کہا کہ تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 54 ہزار 700  کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 54 ہزار 300 کیوسک ہے، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 32 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 9 ہزار کیوسک ہے، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 69 ہزار 200 کیوسک ہے۔

ترجمان واپڈا  کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 60 ہزار 400  کیوسک اور اخراج 57 ہزار  400 کیوسک ہے، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 19 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 19 ہزار 500 کیوسک ہے۔

آبی ذخائرکی صورتحال

ترجمان واپڈا نے بتایا کہ تربیلا ریزوائر میں آج پانی کی سطح 1550.

00 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 57 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ہے، منگلا ریزوائر میں آج پانی کی سطح 1237.15 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 68 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ ہے، چشمہ ریزوائر میں آج پانی کی سطح 649.00 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 11 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 29 لاکھ 32 ہزار ایکڑ فٹ ہے، تربیلا، اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد و اخراج 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ سمیت دیگر مقامات پر پانی کی آمد و اخراج کی تفصیل آج صبح 6 بجے کی ہے۔

وفاقی وزیر معین وٹو نے کہا کہ تربیلا ڈیم 27 اگست سے 100 فیصد بھرا ہوا ہے، منگلا ڈیم 95 فیصد بھرا ہوا ہے اور مزید 5 فٹ کی گنجائش موجود ہے، دریائے چناب پنجند کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور سطح مزید کم ہو رہی ہے، دریائے سندھ گدو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی کی سطح معمول پر ہے۔

فیڈرل فلڈ کمیشن نے بتایا کہ سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ سطح برقرار ہے، کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور سطح مستحکم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مقام پر دریائے درجے کا سیلاب ہے کیوسک اور اخراج میں پانی کی آمد ترجمان واپڈا پانی کی سطح نے کہا کہ ایک لاکھ کیوسک ہے پانی کا

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا