سندھ کے دریا اور بیراجوں میں پانی کی آمد اور اخراج کے اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
کراچی:
صوبے میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمہ اطلاعات سندھ کے صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے، تاہم متعلقہ ادارے مکمل الرٹ ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اپ اسٹریم میں پانی کی آمد 358,201 کیوسک جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 342,976 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سکھر بیراج پر اپ اسٹریم میں پانی کی آمد 280,850 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 231,500 کیوسک ہے۔
اسی طرح کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم میں 266,804 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم میں 237,999 کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے۔
مزید برآں محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 399,020 کیوسک ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ پنجند میں پانی کی آمد 182,107 اور اخراج 169,207 کیوسک ہے۔
تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کی گئی ہے۔ محکمہ اطلاعات سندھ کا کہنا ہے کہ تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور صورتحال فی الحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پانی کی آمد سندھ کے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔