انسداد ہشت گردی عدالت لاہور نے 9 مئی سے متعلق جناح ہاؤس حملہ کیس میں علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی بھی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرلی۔

انسداد ہشت گردی عدالت لاہور میں 9 مئی جناح ہاوس کیس میں علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان انسدادِ دہشت گردی میں پہنچ گئیں، سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی کی اہلیہ مہرین قریشی عدالت میں پہنچں، ملزم شیر شاہ کے وکلاء رنا مدثر، بیریسٹر تیمور بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

انسداد دہشتگری عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی، وکیل رانا مدثر  نے مؤقف اپنایا کہ اس مقدمہ پر ابھی تک ملزم کی حد تک چالان نہیں آیا،  ٹرائل نہ جانے کب شروع ہو، لہذا لامحدود وقت تک ملزم کو قید نہیں رکھا جا سکتا، ملزم کے خلاف۔ کوئی ثبوت۔ نہیں، ملزم کسی ہنگامہ آرائی میں ملوث نہیں۔

وکیل رانا مدثر  نے استدلال کیا کہ  ایسے ملزمان جن پر شیر شاہ سے زیادہ سنگین الزامات تھے انہیں ضمانت دے دی گئی، شیرشاہ پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ اس نے توڑ پھوڑ کی ہو، صرف ایک ملزم کی نشاندہی پر کسی دوسرے کو ملوث نہیں  کیا جاسکتا۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شیر شاہ کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیر شاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے جناح ہاؤس کیس میں شیر شاہ کی ضمانت منظور کر لی، عدالت نے شیر شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

انسداد دہشتگردی کے جج منظر علی گل نے فیصلہ سنایا، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علیمہ خان عدالت نے شیر شاہ شاہ کی

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن