Express News:
2026-06-03@03:54:53 GMT

قدرتی آفت اور غیر انسانی رویے

اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT

دو تین ماہ کے دوران کے پی اور پنجاب میں برساتی اور سیلابی سنگین صورت حال کو بھی ملک میں سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کے بعد سیلاب نے سندھ میں اپنی طاقت دکھانی ہے اور قیمتی سیلابی پانی نے آخر میں سمندر میں جا کر ختم ہونا اور ملک بھر میں اپنی نشانی تباہیوں کی صورت چھوڑ جانی ہے۔

عشروں سے ہونے والی بارشوں اور سیلابی صورت حال میں ہونے والے اربوں روپے کے مالی و انسانی نقصانات میں جہاں حکومتوں کی ذمے داری بڑی حد تک شامل ہے تو وہاں لوگوں اور سیاستدانوں کے کردار اور غیر انسانی رویوں کا بھی دخل ہے۔ سیاسی مخالفت اور چینلوں پر بیٹھ کر الزام تراشی کا بھی وقت ہونا چاہیے مگر سیاسی مفاد کے لیے لغو اور بے سروپا باتیں ضرور کی جاتی ہیں، جیسے پی ٹی آئی رہنما نے ایک ٹاک شو میں انوکھا انکشاف کیا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے سیلاب آ جاتا ہے۔

یہ رہنما یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر اب بھی ملک میں ڈیم نہ بنائے گئے تو سیلاب اور قحط کی شکل میں مزید تباہی آنا یقینی ہے۔ اسی پروگرام میں پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما نے کہا سیلاب ہمیشہ ملک میں غربت لے کر آتے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ برسوں بعد قحط سالی ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ دریا کنارے نئے شہر بنانا چیئرمین پی ٹی آئی کا وژن تھا مگر روڈا کے جاری کردہ این او سی بھی (ن) لیگ کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے گناہ جھوٹ بول کر ہم پر ڈال رہی ہے اور عوام کو گمراہ کر رہی ہے مگر حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ بادلوں کا پھٹنا قدرتی عمل ہے پچاس برسوں میں کبھی اتنی بارش نہیں ہوئی اس پر گندی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

(ن) لیگی حکومتوں میں سیلاب آنے کی باتیں غیر حقیقی ہیں جب کہ برساتی اور سیلابی تباہیاں ہر حکومت میں آتی رہی ہیں مگر سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں نے نقصانات سے بچنے کے لیے کچھ کیا نہ غیر جمہوری طویل حکومتیں کچھ کر سکی تھیں۔متحدہ پاکستان میں ایوب خان حکومت میں ہر سال مشرقی پاکستان میں آنے والے سیلابوں کا ذمے دار مشرقی پاکستان کو سمجھا جاتا تھا مگر بنگلہ دیش بننے کے بعد وہاں مشرقی پاکستان جیسے سیلاب نہیں آ رہے جو قدرتی عمل ہے یا بنگلہ دیشی حکومت نے آتے ہی سیلاب کو روکنے اور نقصانات سے محفوظ رہنے کے اقدامات کو حکومتی ترجیح بنایا ہوگا مگر 50 سالوں میں موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے صرف سیاست چمکانے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کیا اور برساتی و سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بند نہیں بنائے اور بدقسمتی سے بندوں کی تعمیر پر سیاست کی جاتی رہی اور ملک کی انتہائی اہم ضرورت کالا باغ ڈیم کو انتہائی متنازعہ بنا دیا گیا تھا اور سندھ و کے پی مخالفت میں پیش پیش رہے اور کے پی میں بڑے نقصانات کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی کو احساس ہوا ہے اور انھوں نے اب کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ملک کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے سندھ کے تحفظات دور کرنے چاہئیں۔

ہم اپنا حصہ ڈال چکے اب دیگر صوبے اپنا حصہ ڈالیں۔ واضح رہے کہ کالا باغ ڈیم پر کے پی میں شدید مخالفت اے این پی نے اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے کی تھی اور پی پی سندھی قوم پرستوں کے دباؤ میں رہی جب کہ بلوچستان کا اس مسئلے سے زیادہ تعلق نہیں تھا مگر وہاں سے بھی سندھ کے موقف کی حمایت ہوئی جب کہ پنجاب شروع سے ہی حامی رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا ہے کہ ہم نے 6 ڈیم مکمل کیے ہیں۔

ہر بار سیلاب آنے پر بڑا نقصان ہوتا ہے جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے اور سیلاب متاثرین کا اربوں روپے کا مالی اور جانی نقصان ہوتا چلا آ رہا ہے مگر حکومتیں برداشت کر لیتی ہیں مگر سیلابی و برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے پر جب حکومتی توجہ ہوئی وہ ہمیشہ سیاست کی نذر ہو گئی اور قدرتی آفات پر محض سیاست چمکانے کے لیے غیر انسانی رویے اختیار کیے گئے۔ اس وقت پی ٹی آئی حکومتی مخالفت میں سیلاب پر بھی غیر حقیقی سیاست کر رہی ہے کہ وفاق، پنجاب و سندھ میں ان کی حکومت نہیں ہے جب کہ کے پی میں اب بھی بڑا جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس لیے اب ساری صوبائی حکومتوں کو سیلاب جیسے اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل ضرور نکالنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور سیلاب ہے اور کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی